قرآن میں اہل جنت کے تذکرہ کے ذیل میں فرمایا گیا ہے کہ___ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی۔(یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں) پاکیزہ قول(قول طیب) کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے حمید کا راستہ(صراط الحمید) دکھایا گیا تھا(22:23-24)۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو چیزیں ہیں جو کسی کے لیے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بنیں گی۔ ایک، اعتراف حق، اور دوسرے، اتباع حق۔
جب کسی سماج میں حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا ردعمل منفی انداز میں ہوتا ہے۔ وہ قول غیر طیب کے ذریعہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو عزت کا سوال بنا کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر میں نے اس کو مان لیا تو اس کے بعد میری بڑائی ختم ہو جائے گی۔ یہ سرکشی کا ردعمل ہے۔ اور جو لوگ دعوت حق کے مقابلہ میں سرکشی کا ردعمل پیش کریں وہ اپنے اس ردعمل سے جنت کا استحقاق کھو رہے ہیں۔
دوسرا انسان وہ ہے جو قول طیب کے ذریعے دعوت حق کا استقبال کرتا ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اندرونی آواز اس کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہے تو اس کے بعد کوئی بھی دوسری چیز اس کے لیے قبول حق میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ کھلے طور پر اس کا اعتراف کرکے اپنے آپ کو اس میں شامل کر دیتا ہے۔
دعوت حق کے مقابلہ میں یہ دو قسم کا ردعمل دو الگ الگ عملی نتیجے پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس کے مقابلہ میں قول غیر طیب کا مظاہرہ کریں وہ ان کی پوری زندگی کو غلط رخ پر ڈالنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کی ہر روش اور ان کے ہر عمل سے حق پسندی کی روح نکل جاتی ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ قول طیب اور کلمۂ اعتراف کے ذریعہ دعوت حق کا استقبال کرتے ہیں ان کی پوری زندگی میں سچائی کا نکھار آ جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ان کا ہر عمل حق اور عدل کے رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔