عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے کہ لوگوں سے اختلاط کرو اور یہ دیکھتے رہو کہ تم اپنے دین کو زخمی نہ کر لو(خالطوا الناس و انظروا اَلّاتکلمو ادینکم) فتح الباری لابن حجر العسقلانی543/10
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: خَالِطِ النَّاسَ ، وَدِينَكَ لَا تَكْلِمَنَّهُ (صحیح البخاری، جلد8،صفحہ30)۔
اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ آپ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔ بلکہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آپ ہر قسم کے لوگوں سے ملتے رہیں۔ یہ اختلاط اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، اور اختلاط کے بغیر دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔
اس کے علاوہ آپ کی شخصیت کی تکمیل کے لئے بھی اختلاط ضروری ہے۔ جب آپ لوگوں سے ملتے جلتے ہیں تو بار بار ایسے حالات پیش آتے ہیں جو آپ سے کسی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی آدمی نے کڑوی بات کہہ دی۔ اب آپ کو اس کا جواب دینا ہے۔ کسی سے آپ نے ایک وعدہ کر لیا، اسے آپ کو پورا کرنا ہے۔ کسی کی کوئی امانت آپ کے پاس آگئی جسے آپ کو ادا کرنا ہے۔ اس طرح کے معاملات کے دوران ہی آپ تربیت پا کر اسلامی اخلاق کے مالک بنتے ہیں۔
تاہم اختلاط کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہئے کہ آپ دوسروں کا غلط اثر قبول کر لیں۔ مثلاً ایک خاتون نے ایک صاحبہ کو اپنی سہیلی بنایا۔ خاتون سادہ انداز میں رہتی تھیں اور سہیلی کے اندر فیشن والا مزاج تھا۔ سہیلی نے بار بار خاتون سے کہنا شروع کیا کہ تم کیا یہ بیوہ عورتوں کی طرح بالکل سادہ کپڑے پہنتی ہو۔ اس طرح کی باتیں کرکے سہیلی نے مذکورہ خاتون کو رنگین کپڑوں کی طرف راغب کیا پھر ان کے ڈھیلے کپڑے کی جگہ چست کپڑے سلوائے۔ اس طرح سہیلی کے اثر سے خاتون کی ایک ایک چیز بدلنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ باقاعدہ فیشن پسند ہوگئیں اور روزانہ ان کے کئی کئی گھنٹے صرف میک اپ کی نذر ہونے لگے۔
مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی دینی شخصیت کا ہمیشہ محافظ بنا رہے۔ وہ دوسروں سے اثر قبول کرنے کے بجائے خود دوسروں پر اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ لوگوں کے درمیان داعی بن کر رہے، نہ کہ خود دوسروں کا مدعو بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔