قرآن میں ایک طرف تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ کی تعلیم دی گئی ہے(33:3) اور دوسری طرف فرمایا کہ خُذُوا حِذْرَكُمْ (4:71)پہلی آیت کو اگر مطلق معنوں میں لیا جائے تو مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر معاملہ میں خدا پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائے۔ کیونکہ جب اصل حقیقت یہ ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے، خدا کے کیے سے ہوتا ہے تو ا س کے بعد انسان کی اپنی تدبیر ایک غیر ضروری چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ بلکہ وہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آدمی کو خدا کی مدد پر پورا بھروسہ نہیں۔
اسی طرح دوسری آیت کو اگر اس کے لفظی اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو مومن کو بھی ٹھیک ویسے ہی اپنے بچاؤ کی یا اپنے معاملات کو درست کرنے کی تدبیر کرنا چاہیے جیسے کہ عام دنیا دار لوگ کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت کو اگر اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو دوسری آیت غیر متعلق ہے۔ اور اگر دوسری آیت کو اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو پہلی آیت کی مطابقت دوسری آیت کے ساتھ ناقابل فہم نظر آنے لگتی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ ایک ہی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ توکل علی اللّٰہ کی آیت خدا کی نسبت سے ہے اور خذواحِدرکم کی آیت بندے کی نسبت سے۔
اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ اسباب کا پردہ ہٹا کر براہ راست انداز میں خدا کی مدد کبھی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تذبیر کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ تدبیر نہ کرے تو گویا اس نے وہ حالات ہی فراہم نہیں کیے جس کے قالب میں اس کے لیے خدا کی مدد اترتی۔
یہ دوطرفہ عقیدہ آدمی کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کریتا ہے۔ ایک طرف وہ تدبیر میں کمی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کی مدد جب بھی آئے گی تدبیر ہی کے اندر سے آئے گی۔ دوسری طرف اس کو اپنی کامیابی کا بے پناہ یقین ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب میں نے تدبیر کی شرط پوری کر دی تو خدا کی طرف سے آنے والی مدد بھی ضرور آ کر رہے گی۔
مومن کوشش کے معاملہ میں مجاہد ہوتا ہے اور نتیجہ کے معاملہ میں متوکل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔