قَالَ الشَّيْخُ أَبُو سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيُّ: إِنِّي لَأَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِي، فَمَا يَقَعُ بَصَرِي عَلَىٰ شَيْءٍ إِلَّا رَأَيْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ فِيهِ نِعْمَةً، وَلِي فِيهِ عِبْرَةٌ (تفسیر ابن کثیر، جلد2، صفحہ184)۔شیخ ابو سلیمان دارانی نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو میرا حال یہ ہوتا ہے کہ جس چیز پر بھی میری نظر پڑتی ہے اس میں مجھے اللہ کی نعمت دکھائی دیتی ہے اور اس میں میرے لیے عبرت ہوتی ہے۔
عَنِ الحَسَنِ البَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، جلد6، صفحہ271)۔حسن بصری نے کہا کہ ایک گھڑی کے لیے اللہ میں سوچنا ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
قال سفیان بن عیینہ:الفِكْرَةُ نُورٌ يَدْخُلُ القَلْبَ ، وَكَانَ يَقُولُ:إِذَا الْمَرْءُ كَانَتْ لَهُ فِكْرَةٌ، فَفِي كُلِّ شَيْءٍ لَهُ عِبْرَةٌ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، جلد7، صفحہ306)۔یعنی، سفیان بن عیینہ نے کہا کہ غورو فکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے عبرت و نصیحت ہوگی۔
ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ آدمی مبارک ہے جس کا بولنا یاد الٰہی کا بولنا ہو۔ جس کی خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو اور جس کا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو(أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ: طُوبَى لِمَنْ كَانَ قِيلُهُ تَذَكُّرًا، وَصَمْتُهُ تَفَكُّرًا، وَنَظَرُهُ عِبْرَةً) تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد68، صفحہ43۔
دین کی اصل حقیقت ذکر و فکر ہے۔ ذکر و فکر سے مراد معروف قسم کے اور ادوا اشغال نہیں ہیں۔ ذکرو فکر ایک زندہ عمل ہے جو شعور خداوندی کی زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص پر اللہ کی حقیقت اپنے جلال و کمال کے ساتھ منکشف ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی روشنی آ جاتی ہے۔ اس کی روح ربانی جلوؤں سے بیدار ہو جاتی ہے۔
ایسا آدمی اندر سے باہر تک بدل جاتا ہے۔ اس کا چپ رہنا اور اس کا بولنا، اس کا دیکھنا اور اس کا سننا، اس کا چلنا اور اس کا رکنا، ہر چیز میں ایک ربانی نور پیدا ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا اس کے لیے رزق رب کا دسترخوان بن جاتی ہے۔
یہی وہ ربانی انسان ہے جس کو مومن باللہ کہا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔