قرآن میں ایک انسانی کردار کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا(وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْناهُ آياتِنا فَانْسَلَخَ مِنْها فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطانُ فَكانَ مِنَ الْغاوِينَ۔ وَلَوْ شِئْنا لَرَفَعْناهُ بِها وَلكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَواهُ)7:175-176۔
اس آیت میں اس انسان کی مثال دی گئی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالات فراہم کرے جس کے اندر رہ کر وہ ایک دینی زندگی گزارے اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور حرص وہوس میں مبتلا ہو کر ایک ایسی زندگی کی طرف بھاگ کھڑا ہو جس میں دنیا کی چمک دمک تو ہو مگر اس کی دینی اور اخروی زندگی اجڑ جائے۔ ایسے لوگوں کی بابت فرمایا کہ یہی گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہیں(فَأُولئِكَ هُمُ الْخاسِرُونَ)7:178۔
ایک شخص کو خدا یہ موقع دے کہ وہ بقدر ضرورت روزی پر قناعت کرکے دینی زندگی گزارے مگر وہ بقدر عیش حاصل کرنے کی خاطر یہ کرے کہ دینی زندگی کو چھوڑ کر دنیوی زندگی کی طرف دوڑ پڑے تو اس کا یہ فعل مذکورہ قرآنی آیت کا مصداق ہوگا۔
اسی طرح ایک شخص کو ماموربن کر دین کا کام کرنے کا موقع ملے مگر وہ امیر بننے کے شوق میں اس کو استعمال نہ کر سکے۔ ایک شخص کو اقتدار سے باہر زبان و قلم کے ذریعہ دعوت دین کا کام کرنے کا موقع دیا جائے مگر وہ اقتدار کا منصب حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو اس سے محروم کر لے ایک شخص کے لیے غیر مشہور حیثیت میںدین کی خدمت کرنے کے مواقع فراہم ہوں مگر اپنے آپ کو مشہور حیثیت میں دیکھنے کے پیچھے وہ تمام مواقع کو تباہ کر دے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کی مثال اس انسان کی سی ہے جس کو خدا نے بلند حیثیت دینا چاہا مگر اس نے اپنے آپ کو پستی کی حالت میں گرا دیا۔
حرص دنیا کو چھوڑ کر ہی کوئی شخص دینی خدمت کا موقع اپنے لیے پا سکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔