عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الجَنَّةِ فَارْتَعُوا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الجَنَّةِ؟ قَالَ: المَسَاجِدُ، قُلْتُ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ )سنن الترمذي،حدیث نمبر 3509(۔حضرت ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو اس سے چر لیا کرو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جنت کے باغ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مسجدیں اور ذکر کے حلقے۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، چرنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ اور الحمدللّٰہ اور لاالٰہ الااللّٰہ اور اللہ اکبر۔
آدمی جب دنیا میں چلتا پھرتا ہے تو اس کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جو اس کے خدائی احساسات کو جگاتے ہیں۔ کبھی مسجد اس کو خدا کی معبودیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کبھی ذکر خدا وندی کی مجلسیں اس کو خدا کی صفات کی یاد دلاتی ہیں۔ کبھی کائنات کی نشانیاں اس کو خدا کی عظمت و جلال کی جھلک دکھاتی ہیں۔
اس قسم کے تجربات آدمی کو جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے کنارے پہنچا دیتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر ان احساسات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو اس کو جنت میں پہنچانے والے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے استفادہ کرے اور ان سے جنتی غذا لے کر اپنے آپ کو جنت میں بسنے کے قابل بنا لے۔
ان تجربات کے درمیان آدمی کے اوپر اتنا شدید تاثر طاری ہونا چاہیے کہ اس کی روح حقیقت اعلیٰ سے مربوط ہو جائے۔ اس کے ابلتے ہوئے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں کہ خدایا، تو پاک ہے۔ سارا شکر اور ساری تعریف تیرے لیے ہے۔ توہی معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ساری بڑائی صرف تیرے لیے ہے، تیرے سوا کسی کو بھی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔
دنیا میں آدمی کو اس طرح رہنا ہے کہ وہ یہاں کے مناظر میں جنت کی جھلک دیکھنے لگے۔ اس کے بعد ہی وہ جنت کے باغوں میں چرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔