قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ :تم لوگ اچھا سلوک کرو رشتہ دار پڑوسی کے ساتھ، اجنبی پڑوسی کے ساتھ اور پاس بیٹھنے والے کے ساتھ اور مسافرکے ساتھ(4:36)۔ پڑوسی کے حقوق کا حکم اس تفصیل کے ساتھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے، خواہ وہ قریب کا پڑوسی ہو یا دور کا پڑوسی خواہ وہ وقتی پڑوسی ہو یا مستقل پڑوسی، خواہ وہ گھر کا پڑوسی ہو یا ایسا پڑوسی ہو جو تعلیم یا کاروبار یا سفر کے دوران آدمی کے ساتھ ہو جائے۔ جب بھی اور جہاں بھی ایک آدمی دوسرے آدمی کے ربط میں آئے تو لازم ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے انسانی حقوق کا لحاظ کرے، ایک شخص دوسرے شخص کو کسی بھی اعتبار سے شکایت کا موقع نہ دے۔ ایک مسلمان کو فرد کے اعتبار سے بھی اچھا پڑوسی بننا ہے، اور وسیع تر سطح پر قومی اعتبار سے بھی اسے اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دینا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے، یا یہ فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے، وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے(وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ، أَوْ قَالَ: لِأَخِيهِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ) صحيح مسلم،حدیث نمبر 45۔ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو(لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ) صحيح مسلم،حدیث نمبر 46۔ایک حدیث میں ہے کہ: خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ۔ یعنی اللہ کے نزدیک سب سے اچھا ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے اچھا ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو(سنن الترمذي،حدیث نمبر 1944) ۔آپ نے فرمایا:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ (جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے(صحيح البخاري،حدیث نمبر 6018)۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ)جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے(صحيح البخاري،حدیث نمبر 6019۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔