مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا ہے۔ اِس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی دجہ میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 1642) ۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں (وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ) سنن الترمذي،حدیث نمبر 2263۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے (يَتَّقِي اللهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ) صحيح البخاري،حدیث نمبر2786۔
البخاری (کتاب الادب) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلم پر صدقہ ہے۔ یعنی اس کو دینے والا بننا چاہیے۔ پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ محنت کر کے کمائے اور پھر اس میں سے دے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ زبان سے اچھا کلمہ کہے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو آپ نے فرمایا: فليمسك عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ۔یعنی وہ اپنے شر کو دوسروں سے روکے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک عطیہ ہے (صحيح البخاري،حدیث نمبر 5676)۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو مجاہد بنے اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال کو خرچ کرے۔ اور اس کے بعد وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے بچے ہوئے ہوں (قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 2485۔ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے کردار کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اس کے بعد اسلامی کردار کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ وہ پوری طرح بے ضرر بنا ہوا ہو، وہ کسی کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیدا نہ کرے۔یہی اخلاقی صفت کسی کے مومن و مسلم ہونے کی اصل پہچان ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔