دین انسانیت کانہایت سادہ اصول یہ ہے کہ___ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے (لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ) صحيح البخاري،حدیث نمبر13۔یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے پڑوسی (یا اپنے بھائی) کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
کوئی آدمی خواہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا ہو، ایک طبقہ سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے طبقہ سے، حتی کہ معذور ہو یا غیر معذور، ہر حال میں وہ یقینی طور پر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز مجھے پسند آتی ہے اور کیا چیز مجھے پسند نہیں آتی۔ اب ہر آدمی سادہ طور پر اپنے لیے یہ اصول بنا لے کہ جو سلوک اس کو پسند آتا ہے وہی سلوک وہ دوسروں کے ساتھ کرے۔ اور جو سلوک اس کو پسند نہیں آتا اس سے وہ خود بھی پرہیز کرنے لگے۔
یہ ایک ایسا جامع اصول ہے جو عورت اور مرد، فرد اور قوم، ملکی اور غیر ملکی ہر ایک کے لیے کارآمد ہے۔ لوگ اگر اس اصول کو اختیار کر لیں تو خاندانی زندگی بھی بہتر ہو جائے اور سماجی زندگی بھی۔ قومی زندگی بھی خوش اسلوبی کے ساتھ چلنے لگے اور بین الاقوامی زندگی بھی۔ یہ گویا انسانی اخلاقیات کے لیے ایک شاہ کلید ہے۔ یہ ایک ہی کنجی تمام تالوں کو کھول دینے کے لیے کافی ہے۔
جو آدمی اپنے اور غیر میں فرق نہ کرے وہ ایک بااصول انسان ہو گا۔ اس کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پائے گی۔ اس کی یہ صفت اس کو کامل انسان بنا دے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔