حضرت ابوذر الغفاریؓ ایک مشہور صحابی ہیں۔ انھوں نے مدینہ کے پاس ربذہ میں 32 ھ میں وفات پائی۔ ان سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے:
دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَحْدَهُ، ...فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ...أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: "أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَسْلَمُ؟ قَالَ: "مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، ...قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ"(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر807)۔ یعنی،میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ،مومنوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ پھر میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، سب سے افضل مسلم کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں۔ پھر میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، سب سے افضل ہجرت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی ہجرت جو برائیوں کو چھوڑ دے۔
اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جو انسان بنانا چاہتا ہے وہ کیسا انسان ہوتا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بہترین اخلاق کا ثبوت دے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے اندر ذمہ داری کا احساس اس طرح جاگ اٹھے کہ وہ اپنی زبان سے کسی کا دل نہ دُکھائے، اس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ وہ ہر اس عادت اور ہر اس روش کو چھوڑ دے جس میں برائی کا کوئی پہلو موجود ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو اچھا انسان ہو۔ اسلام دراصل انسان سازی کا مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد انسان کی فکری تطہیر اور عملی اصلاح ہے، جس آدمی کے دل میں اسلام اتر جائے وہ اپنے آپ اچھا انسان بھی بن جائے گا۔
جس آدمی کی زندگی بھلائی سے خالی ہو اس کی زندگی یقیناً اسلام سے بھی خالی ہو گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔