Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

خیر پسند

Urdu · 2 min read

زید بن مُھَلۡھِل نجد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے اور گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔

انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زنی کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو :

وَقَوْمِي رُؤُوسُ ‌النّاسِ ‌وَالرَّأْسُ قَائِدٌ

إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْها الأكُفُّ المَسَاعِرُ

زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ 9 ھ میں مدینہ میں ان کاانتقال ہوا۔

اس واقعہ سے اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو ’’زید شہ سوار‘‘ بنانا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی ’’زید صاحب خیر‘‘ بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔

آجکل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اسلام کا خاص مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔

مومن کا کام زید الخیل بننا نہیں بلکہ زید الخیر بننا ہے۔ یہی مومنانہ شخصیت کا خلاصہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.