سب سے بہتر انسان کون ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے بہتر انسان وہ ہے جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ جس کے متعلق پیشگی طور پر یہ یقین کیا جا سکے کہ جب بھی اس سے سابقہ پڑے گا اس سے اچھائی ہی کا تجربہ ہو گا، جب بھی اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گا وہ دوسروں کے لیے ایک سچا انسان ثابت ہو گا۔
روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ کیا میں تم کو تمہارے اچھے شخص اور تمہارے برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں۔ یہ سن کر لوگ خاموش رہے۔ تب آپ نے تین بار اپنے اس سوال کو دہرایا۔ اس کے بعد ایک شخص نے کہا کہ کیوں نہیں، اے خدا کے رسولؐ، آپ ہم کو ہمارے اچھے شخص اور ہمارے برے شخص کے بارے میں ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں اچھا شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ مطمئن ہوں: خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 2263۔) اس حدیث کے مطابق ، بہترین انسان وہ ہے کہ جب کسی سے اس کا سابقہ پیش آئے تو اس سے دوسرے کو میٹھا بول ملے۔ وہ دوسرے کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔ وہ دوسرے کو خوشی کا تحفہ دے سکے۔ اس سے دوسرے شخص کو ہمیشہ انصاف کا تجربہ ہو۔ وہ دوسرے کے حق میں ایک بااصول اور باکردار انسان ثابت ہو۔
اس کا یہ قابل پیشین گوئی کردار اس وقت بھی باقی رہے جب کہ دوسرے شخص کی طرف سے اس کو کوئی شکایت پہنچی ہو۔ جب کہ دوسرے شخص سے اس کو زیادتی کا کوئی تجربہ ہوا ہو۔ ایسے ناموافق حالات میں بھی اس کا حق پسندی کا مزاج باقی رہے۔ وہ اشتعال انگیزی کا جواب بھی صبر و سکون کے ساتھ دے۔ اس کے متعلق یہ امید کی جائے کہ دوسروں کی طرف سے برے سلوک کے باوجود وہ اپنے اصول کے مطابق ان کے ساتھ حسن سلوک کی روش پر قائم رہے گا۔ اس کا کردار ہمیشہ اعلیٰ انسانی امید پر پورا اترے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔