قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ :اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ وہ تمہارے اعمال سدھارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (33:70-71۔
اس قرآنی آیت میں ہمیشہ قول سدید (درست بات) کا حکم ہے۔ قول سدید کا مطلب ہے ٹھیک بات کہنا، عین وہی بات کہنا جو صحیح ہو اور واقعہ کے مطابق ہو۔ اصل حقیقت سے کچھ بھی اِدھر یا اُدھر ہٹی ہوئی نہ ہو۔ جس طرح تیر ٹھیک نشانہ کی طرف رخ کر کے چلایا جاتا ہے، اسی طرح قول سدید ٹھیک حقیقت کو سامنے رکھ کر بولا جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا:اهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي(سننابی داؤد، حدیث نمبر 1510؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3551؛ مسنداحمد، حدیث نمبر1997)۔اے اللہ، میرے دل کو ہدایت دے اور میری زبان کو قول سدید کی توفیق دے۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ قول سدید کی اسلام میں کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قول سدید کسی شخص کے مومن و مسلم ہونے کی پہچان ہے۔
انسانی کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غیر سدید کلام، دوسرا وہ جو پورے معنی میں سدید (درست) کلام ہو۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعات و حقائق پر مبنی ہو۔ جس کی پشت پر ٹھوس دلائل موجود ہوں۔ جس میں ساری رعایت زیر بحث معاملہ کی ہو، کسی بھی دوسری چیز کی رعایت اس میں شامل نہ ہو۔ جو تعصب سے پوری طرح پاک ہو۔
اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن و گمان پر رکھی گئی ہو، جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ پہلے قسم کا کلام خدا کا پسندیدہ کلام ہے اور دوسرے قسم کا کلام خدا کا مبغوض کلام۔
انسان کی انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ جب بھی بولے قول سدید کی زبان میں بولے۔ قول سدید کسی انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ اور قول غیر سدید اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو بولنے والا انسانیت سے خارج ہے، خواہ بظاہر وہ انسان کی صورت میں دکھائی دیتا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔