قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس لیے تم برائی کا بدلہ اچھائی کے ذریعہ دو (وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ)41:34۔یہ بات قرآن میں مختلف الفاظ میں بار بار کہی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو ہمیشہ مثبت ردعمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ انھیں ہر حال میں منفی ردعمل سے بچنا چاہیے۔ ان کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی طرف سے برے سلوک کا مظاہرہ کرے تب بھی خدا پرستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ ردعمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ بااصول انسان کا ثبوت دیں۔ برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔
مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: أَمَرَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ (تفسیر ابن کثیر ،جلد7،صفحہ181 )۔یعنی اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انھیں غصہ آ جائے تو وہ صبر و برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص برا سلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔
اس اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر قائم رکھنا۔
مومن وہ ہے جو برتر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر اٹھ جائے۔ ایسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے جو باہر کے کسی بھی واقعہ سے نہیں ٹوٹتا۔ جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں و ہاں وہ سمندر کی طرح پرسکون بنا رہتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔