قرآن میں مومن کی جو صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک صفت تو سم (الحجرہ ،15:75 ) ہے۔ توسم کا مطلب ہے استدلال بالعلاقات (القرطبی 10/43 ) یعنی ظاہری نشانیوں سے باطنی حقیقتوں کو جان لینا۔ مثلاً عربی میں کہا جاتا ہے توسمت فیہ الخیر ۔ یعنی میں نے اس شخص کے ظاہری قرائن سے معلوم کر لیا کہ اس کے اندر خیر کی صفت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت اس طرح آئی ہے:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: اتَّقُوا فِرَاسَةَ المُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ:( إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ) سنن الترمذي،حدیث نمبر 3127۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو۔ کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اس میں نشانیاں ہیں تو سم کی صفت رکھنے والوں کے لیے۔
دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو چیزوں کو ان کے ظاہری اور خارجی پہلو سے لیتے ہیں۔ ایسے لوگ معاملات کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ صرف ظاہری بینی کی حد تک جانتے ہیں اور محض سطحی رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نادانی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہ ہو۔
دوسرا انسان وہ ہے جو ظاہری سطح سے گزر کر گہرائی تک پہنچتا ہے۔ جو خارجی مظاہر سے داخلی حقیقتوں کا پتہ لگاتا ہے۔ جو دور رس پہلوؤں کو دھیان میں رکھ کر اپنا عملی منصوبہ بناتا ہے۔ یہی دوسرا انسان متوسم ہے، اور جو متوسم ہو اس کی شخصیت اتنی بے پناہ ہو جاتی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔
مومن ایک متوسم انسان ہوتا ہے۔ وہ ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھ لیتا ہے۔ یہی اللہ کے نور سے دیکھنا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی نگاہ ظاہر کو پار کر کے باطن تک کا احاطہ کر لیتی ہے۔ ایسے خدائی انسان کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔