عَنْ أَسْمَاءَ بِنْةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيهَا(صحیح البخاری،حدیث نمبر 3183؛ صحيح مسلم،حدیث نمبر 1003)۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری(رضاعی) ماں میرے پاس مدینہ آئیں۔ اس وقت وہ شرک پر تھیں اور وہ قریش کی حلیف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسولؐ میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انہیں صلہ رحمی کے طور پر کچھ دوں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ان کودو۔
یہ حدیث بظاہر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے، خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث کی کتابوں میں وہ اسی طرح کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ مگر کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے ’’ترجمہ باب‘‘ کو دیکھنا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ حدیث کے متن پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی آدمی کے اوپر اس کے پورے معانی کھل سکتے ہیں۔
اس حدیث سے حقوق والدین کے مسئلہ کے علاوہ مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خاتمہ جنگ کا معاہدہ ہوگیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مکہ کے مشرکین مدینہ آنے لگے اور مدینہ کے مسلمان مکہ جانے لگے۔
عقل عام یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس آمدورفت میں صرف ’’صلہ رحمی‘‘ کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ شرک اور توحید پر گفتگو ہونے لگی۔ آبائی مذہب اور پیغمبرانہ مذہب کا تقابل کیا جانے لگا۔ تو ہم پرستانہ مذہب اور الہامی مذہب کا فرق لوگوں پر واضح ہونے لگا۔
اس طرح یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کی تدبیر نے جنگی ماحول کو دعوتی ماحول میں تبدیل کر دیا۔ مکہ اور مدینہ میں جہاں اس سے پہلے تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہ دعوت حق کی آوازوں سے گونجنے لگے، اور جب ایسا ہو جائے تو اسلام کی فتح اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنا کہ تاریکیوں کی دنیا میں سورج کے طلوع ہونے سے سورج کا فتح یاب ہونا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔