أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ (سنن أبي داود،حدیث نمبر 4800)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے کنارے ایک گھر کی ذمہ داری لیتا ہوں اس شخص کے لئے جو جھگڑے کو چھوڑ دے خواہ وہ حق پر ہو۔ اور جنت کے بیچ میں ایک گھر کی اس شخص کے لئے جو جھوٹ کو ترک کر دے خواہ وہ مذاق کر رہا ہو۔ اور جنت کے اعلیٰ درجہ میں ایک گھر اس شخص کے لئے جس کا اخلاق اچھا ہو۔
دو آدمی میں جھگڑا ہو تو دیکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر دونوں اپنے موقف پر اڑے رہیں تو جھگڑا بڑھتا ہے۔ جان و مال کی تباہی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ سے ڈرنے والے کو یک طرفہ طور پر جھگڑے سے الگ ہو جانا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے اپنے نفس کو کچلنا ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے۔
ہنسی مذاق کے وقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سنجیدگی کو بھول جاتا ہے اور جھوٹ بولنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا۔ مگر جنتی انسان وہ ہے جو سچ اور جھوٹ کے معاملہ میں اتنا حساس ہو کہ غفلت کے اوقات میں بھی اس کی زبان جھوٹ بولنے سے بچی رہے۔
حسن اخلاق دراصل حسن ایمان کا نتیجہ ہے۔ جس شخص کا ایمان اس کو خدا سے ڈرنے والا بنا دے وہ بندوں کے معاملہ میں اس کو بے حد محتاط بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان کسی کی بے آبروئی کے لئے نہیں کھلتی۔ اس کا ہاتھ کسی کو تکلیف دینے کے لئے نہیں اٹھتا۔ اس کے پاؤں کسی کی بدخواہی کے لئے نہیں چلتے۔ یہی حسن اخلاق ہے اور یہ حسن اخلاق جس کے اندر پیدا ہو جائے وہ یقینا جنت میں اعلیٰ مقام پاتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے آدمی کو اعلیٰ جنت اسی طرح ملتی ہے جس طرح اعلیٰ بیج سے اعلیٰ پھل والا درخت ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔