عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ (صحيح مسلم،حدیث نمبر 2963)۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم اس کو دیکھو جو تمہارے نیچے ہے اور اس کو نہ دیکھو جو تمہارے اوپر ہے۔ کیوں کہ اس رویہ سے اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ تم اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔
یہ زندگی کا ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں خود فطرت کے نظام کے تحت ایسا ہے کہ کسی کے پاس کم سامان ہوتا ہے اور کسی کے پاس زیادہ سامان۔ فرق کی یہ صورت حال کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں پرسکون زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے اور دوسروں کے درمیان غلط تقابل نہ کرے۔
اگر وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر حسد اور بے چینی پیدا ہو گی۔ وہ سکونِ قلب سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کو روحانی سکون بھی حاصل ہو گا۔ اس کا دن چین کے ساتھ گزرے گا اور رات کے وقت اس کو اچھی نیند کی نعمت حاصل ہو گی۔
اس بات کو مشہور انگریز افسانہ نگار شیکسپیر (1565-1616)نے اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے کہ یہ دراصل تقابل ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں
It is by comparison that you suffer.
ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کا یہ نظام خود فطرت کا بنایا ہوا ہے۔ اس میں گہری مصلحت ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان چیلنج کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ یہی چیلنج تمام ترقیوں کا زینہ ہے۔ انسانی سماج میں اگر چیلنج ختم ہو جائے تو اس کی ترقیاتی سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ اپنے سے کم والے کو دیکھے تو شکر ادا کرے۔ اور جب اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو مسابقت کے جذبہ کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔