اللہ کے مقابلہ میں کَبِرّہ کا حکم ہے اور انسان کے مقابلہ میں تواضعوا کا۔ یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ اس کو اپنا کبیر بنایا جائے۔ اور انسان کے مقابلہ میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تواضع کا رویہ اختیار کریں۔ یہی تکبیر اور تواضع دو لفظ میں پورے دین کا خلاصہ ہے۔
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم اللہ ہی کی خوب بڑائی بیان کرو (وَكَبِّرْهُ تَكْبِيراً)17:111۔دوسری جگہ فرمایا کہ تم صرف اپنے رب کی بڑائی کرو (وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ)74:3۔
اللہ کی معرفت کے بعد آدمی کے دل میں اپنے خالق و مالک کے لیے جو سب سے بڑا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے۔ اس کو ساری عظمت صرف ایک اللہ کی طرف دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اللہ کو کبیر کی حیثیت سے دریافت کرنا اس کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ اور دوسرے تمام انسان اللہ کے مقابلہ میں صرف صغیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک مومن کی زندگی میں عبادت، تقویٰ، خشوع ، تضرع اور انابت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عیاض بن حِمار کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلَے اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے (إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا، حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ) صحيح مسلم،حدیث نمبر 2865۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دسرے انسانوں کے مقابلہ میں متواضع بن جائے۔ زیادہ والا کم والے پر فخر نہ کرے۔ طاقتور آدمی کمزور آدمیوں کے اوپر زیادتی نہ کرے۔
ایمان آدمی کے اندر جو شعور اور جو کیفیت پیدا کرتا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کواپنا کبیر بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو صغیر بنا لیتا ہے۔ پھر یہی شعور اس کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو قابلِ احترام سمجھے، وہ اُن کے ساتھ تواضع کا رویہ اختیار کرے نہ کہ سرکشی اور تحقیر کا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔