← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
دفع احسن
Urdu · 7 min
وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
Qur'anQuotes the Qur'an
ایک شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے اور آپ اس پر بھڑک کر اس کی مذمت کرنے لگیں تو اس کے اندر ضد پیدا ہو گی۔ اس کی دشمنی اور بڑھ جائے گی۔ آپ کا ایسا ردعمل آگ پر تیل ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ جس دشمنی کی ابتدائی صورت آپ کے لئے ناخوشگوار ثابت ہوئی تھی، اب آپ کو اس دشمنی کی انتہائی صورت کا تلخ تر تجربہ برداشت کرنا پڑے گا۔
اس کے برعکس اگر آپ ایسا کریں کہ جس آدمی نے آپ کے ساتھ دشمنی والا سلوک کیا ہے، اس کے ساتھ آپ اعراض برتیں۔ یا اس کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کریں تو یہ آگ پر پانی ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ آپ کا ایسا رویہ دشمن کو نفسیاتی شکست میں مبتلا کر دے گا۔ اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ وہ اندرونی طور پر شرمندگی کے احساس میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ مزید دشمنی کرنے کے بجائے دشمنی کی تلافی کی بات سوچنے لگے گا۔
اشتعال کے جواب میں مشتعل ہونا یا منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کرنا دل کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ کوئی مفید نتیجہ برآمد کرنے والا نہیں۔ یہ نادان آدمی کا کام ہے کہ وہ کوئی خلاف مزاج بات دیکھے تو فوراً بھڑک اٹھے۔ عقل مند وہ ہے جو اقدام سے پہلے نتیجہ کی بات سوچے۔ جو آخری نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے نہ کہ محض وقتی جذبہ کے تحت کارروائی کرنے لگے۔
ہر آدمی اصلاً فطرت کا ایک ظاہرہ ہے۔ ہر ایک آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہے۔ بظاہر کوئی شخص آپ کا دشمن ہو تب بھی اس کو ایک انسان سمجھئے۔ اس کی برائی کو نظرانداز کرکے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔
صبر کی اہمیت
قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ صبر کو اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے (الاحقاف ،46:35 ) صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (7:137)صبر قیادت عالم کا زینہ ہے (السجدہ ، 32:24) صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (یوسف ،12:90 ) حتیٰ کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (39:10)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا عطیہ نہیں دیا گیا (وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 1644۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بہتر صبر کے ذریعہ پایا (وَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبِرِ) الزہد و الرقائق لابن المبارک: 997۔ ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے (فالصبر جامع المکارم الاخلاق)فتح الباری 11/309-311 )
quoted sourceQuoted from another author or source
صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔
آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے ردعمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں۔ یہ بے صبر کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں مگر آپ اس پر مشتعل نہ ہوں، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔
بے صبری بھی عمل ہے، اور صبر بھی عمل ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔
بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف۔