Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

برا گمان

Urdu · 4 min

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (49:12)۔اے ایمان والو، بہت سے گمان سے بچو بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گمان (ظن) بڑی تقسیم میں دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک حسن ظن جو جائز ہے اور دوسرا سوء ظن جو حرام إِنَّ الظَّنَّ عَلَى أَقْسَامٍ، مِنْهَا ‌مَا ‌يَجِبُ ‌اتِّبَاعُهُ، وَهُوَ حُسْنُ الظَّنِّ، وَمِنْهَا مَا يَحْرُمُ اتِّبَاعُهُ، كَسُوءِ الظَّنِّ (التفسير المظهري،جلد9،صفحہ 54)۔مفسر طبری نے اِنّ بعَضَ الظِنّ اثم’‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو اس سے منع فرمایا کہ وہ دوسرے مومن کے حق میں برا گمان کرے (نَهَى اللَّهُ الْمُؤْمِنَ ‌أَنْ ‌يَظُنَّ ‌بِالْمُؤْمِنِ شَرًّا) تفسير الطبري جامع البيان،جلد22،صفحہ 304۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک ہے عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اور ایک ہے قیاس اور استنباط کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اس معاملہ میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو دونوں طریقوں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا جائز ہو گا۔ حدیث میں یہاں تک ارشاد ہوا ہے کہ إِذَا ‌ظَنَنْتَ ‌فَلَا ‌تُحَقِّقْ(أمالي المحاملي،حدیث نمبر ‌‌343)۔یعنی اگرکسی شخص کے بارے میں تمہیں کوئی براگمان ہو جائے تو اس کی تحقیق میں نہ پڑو، بلکہ اس کو اپنے ذہن سے نکال دو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ولید بن عقبہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس شخص کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا ہم کو تجسس سے روک دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز بالکل ظاہر ہو جائے گی تو ہم اس پر مواخذہ کریں گے (قِيلَ هَذَا فُلَانٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا قَدْ ‌نُهِينَا ‌عَنِ ‌التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَيْءٌ نَأْخُذْ بِهِ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 4890۔

quoted sourceQuoted from another author or source

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: تمہارے مومن بھائی کی زبا ن سے کوئی بات نکلے تو تم ہرگز اس کو برے معنی میں نہ لو جب کہ تم اس کو اچھے معنی میں بھی لے سکتے ہو (لا تَظُنَّنَّ بِكَلِمَةٍ خَرَجَتْ مِنْ مُسْلِمٍ شَرًّا وَأَنْتَ تَجِدُ لَهَا فِي الْخَيْرِ مَحْمَلا (روضۃ العقلاء لابن حبان، صفحہ 90)۔

quoted sourceQuoted from another author or source
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content