يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (49:12)۔اے ایمان والو، بہت سے گمان سے بچو بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔
گمان (ظن) بڑی تقسیم میں دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک حسن ظن جو جائز ہے اور دوسرا سوء ظن جو حرام إِنَّ الظَّنَّ عَلَى أَقْسَامٍ، مِنْهَا مَا يَجِبُ اتِّبَاعُهُ، وَهُوَ حُسْنُ الظَّنِّ، وَمِنْهَا مَا يَحْرُمُ اتِّبَاعُهُ، كَسُوءِ الظَّنِّ (التفسير المظهري،جلد9،صفحہ 54)۔مفسر طبری نے اِنّ بعَضَ الظِنّ اثم’‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو اس سے منع فرمایا کہ وہ دوسرے مومن کے حق میں برا گمان کرے (نَهَى اللَّهُ الْمُؤْمِنَ أَنْ يَظُنَّ بِالْمُؤْمِنِ شَرًّا) تفسير الطبري جامع البيان،جلد22،صفحہ 304۔
ایک ہے عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اور ایک ہے قیاس اور استنباط کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اس معاملہ میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو دونوں طریقوں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا جائز ہو گا۔ حدیث میں یہاں تک ارشاد ہوا ہے کہ إِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تُحَقِّقْ(أمالي المحاملي،حدیث نمبر 343)۔یعنی اگرکسی شخص کے بارے میں تمہیں کوئی براگمان ہو جائے تو اس کی تحقیق میں نہ پڑو، بلکہ اس کو اپنے ذہن سے نکال دو۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ولید بن عقبہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس شخص کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا ہم کو تجسس سے روک دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز بالکل ظاہر ہو جائے گی تو ہم اس پر مواخذہ کریں گے (قِيلَ هَذَا فُلَانٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَيْءٌ نَأْخُذْ بِهِ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 4890۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: تمہارے مومن بھائی کی زبا ن سے کوئی بات نکلے تو تم ہرگز اس کو برے معنی میں نہ لو جب کہ تم اس کو اچھے معنی میں بھی لے سکتے ہو (لا تَظُنَّنَّ بِكَلِمَةٍ خَرَجَتْ مِنْ مُسْلِمٍ شَرًّا وَأَنْتَ تَجِدُ لَهَا فِي الْخَيْرِ مَحْمَلا (روضۃ العقلاء لابن حبان، صفحہ 90)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔