تاریخ اسلام کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو مواخاۃ کہا جاتا ہے۔ مکہ کے مسلمان جب مہاجر کی حیثیت سے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ (تآخَوْا فِي اللَّهِ أخَوَيْن أخَوَيْن) سیرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ109۔ اس ہدایت کے مطابق ہر انصاری نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنا لیا۔ انصار نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کر کے آدھا خود لیا اور آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دیدیا۔ اس مواخاۃ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس معاملہ میں انصار نے یک طرفہ طور پر جس کمالِ ایثار کا ثبوت دیا اس کی کوئی دوسری مثال پوری معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار کے اعلیٰ سلوک سے خود مہاجرین بے حد متاثر تھے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ، حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ. قَالَ: " لَا، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللهَ لَهُمْ" (مسند أحمد،حدیث نمبر 13075)۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے یہاں ہم آئے ہیں، ان سے بہتر قوم ہم نے نہیں دیکھی۔ وہ کم میں بہترین ہمدردی کرنے والے ہیں اور زیادہ میں بہترین خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ محنت میں ہماری طرف سے کافی ہو گیے اور پیداوار میں ہم کو شریک کر لیا۔ حتی کہ ہم کو ڈر ہے کہ اجر انھیں کو نہ مل جائے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو۔
اس حدیث سے نہایت اہم اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ زید کو بکر سے کچھ ملے مگر زید کے پاس کوئی مادی چیز لوٹانے کے لیے نہ ہو تو وہ کیا کرے۔ ایسی حالت میں زید کو چاہیے کہ وہ بکر کے عطیہ کا کھلے دل سے اعتراف کرے۔ اعتراف کا یہ احساس اتناز زیادہ گہرا ہو کہ زید کے دل سے بکر کے لیے دعائیں نکلنے لگیں___ مال والے کے پاس دینے کے لیے اگر مال ہے، تو بے مال والے کے پاس بھی دینے کے لیے ایک چیز موجود ہے، اور وہ دعا اور اعتراف ہے۔ اور بلاشبہ دعا اور اعتراف کی اہمیت کسی مادی عطیہ سے کم نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔