عبداللہ بن عباس رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے تھے۔ نوجوانی کی عمر میں ایک بارو وہ اونٹ پر رسول اللہؐ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ان کو ایک لمبی نصیحت فرمائی۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: اعْلَمْ أنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا(مسند أحمد،حدیث نمبر 2803)۔یعنی، جان لو کہ ناپسندیدہ بات پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے۔ اور صبر کے ساتھ اللہ کی مدد آتی ہے۔ اور تکلیف کے ساتھ کشادگی ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یہ پیغمبرانہ الفاظ زندگی میں کامیابی کی حقیقت کو بتا رہے ہیں۔ ایسی حقیقت جس کا تعلق ذاتی زندگی سے بھی ہے اور قومی اور اجتماعی زندگی سے بھی۔
آپ کو ایک گھر یا ایک دکان یا ایک آفس چلانا ہے تو لازماً اس میں ایسی چیزیں سامنے آئیں گی جو آپ کو پسند نہ ہوں گی۔ ان ناپسندیدہ چیزوں پر اگر آپ بھڑک اٹھیں یا بے برداشت ہو جائیں تو آپ کبھی گھر یا دکان یا آفس کو چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر آپ وقتی ناپسندیدگی کو برداشت کر لیں اور جذباتی ہیجان سے ہٹ کر عقلی فیصلہ کے تحت کام کریں تو یقینا آپ اپنے مستقبل کو کامیابی کی طرف لے جائیں گے۔
یہی معاملہ قومی اور اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ قومی زندگی میں بھی دوسروں کی طرف سے ناخوشگوار باتیں پیش آتی ہیں۔ اشتعال انگیز الفاظ کان میں پڑتے ہیں۔ ان مواقع پر دوبارہ صبر ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اگر ایک گروہ کے لوگ دوسرے گروہ کی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز نہ کریں ، اور ہر ناپسندیدہ بات پیش آنے پر دوسرے گروہ سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو ایسے بے برداشت لوگ ہمیشہ ناکام اور برباد رہیں گے۔ پیغمبر کی نصیحت کے مطابق ، کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے منفی جذبات کو قابو میں رکھا جائے۔ دوسروں کے خلاف اٹھنے کے بجائے اپنے آپ کو دبایا جائے۔ یہ صابرانہ طریقہ تنگی کے بعد کشادگی لائے گا، وہ مشکل کو بالآخر آسانی میں تبدیل کرنے کا سبب بن جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔