← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
قیامت میں ادائیگی
Urdu · 13 min
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ (صحيح مسلم،حدیث نمبر 2581) ۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز اورروزہ اور زکواۃ لے کر آئے۔ اسی کے ساتھ وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو ، کسی کو الزام لگایا ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، کسی کو مارا ہو۔ پس اس کی نیکیاں اِس کو اور اس کو دے دی جائیں۔ پھر اگر حساب برابر ہونے سے پہلے ان کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو لوگوں کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور پھر اس کو جہنّم میں پھینک دیا جائے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ حدیث پڑھ کر ان لوگوں کے اوپر کپکپی طاری ہونی چاہیے۔ جو دوسروں کا حق مارتے ہیں۔ کیوں کہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دوسروں کے مال پر مال دار بننے والے قیامت میں بالکل مفلس ہو جائیں گے جو لوگ دوسروں کے گھر پر قبضہ کر کے گھر والے بنے ہوئے ہوں، وہ آخرت میں اس طرح بے گھر ہو جائیں گے کہ درخت کے پتوں کا سایہ بھی نہ ہو گا جس کے نیچے وہ پناہ لے سکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری طرف اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خوش خبری ہے جن کا حق مارا گیا ہے۔ اس دنیا میں جو چیز انھیں گالی، الزام تراشی، غصب، تشدد اور جارحیت کے روپ میں مل رہی ہے۔ قیامت کے دن اس کی ادائیگی ایسے قیمتی سکوں کی صورت میں ہو گی جس سے آخرت کی دنیا کی ہرچیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ دنیا کے مفلس، اس دن آخرت کے دولت مند کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔
قناعت
عبداللہ بن عَمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جو اللہ کے آگے جھک گیا۔ جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے جتنا اس کو دیا اس پر اس نے قناعت اختیار کی
hadithQuotes a hadith
عن عبدِاللہ بن عمرو بن العاص اَنّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054)قناعت (contentment) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی عمل کرنا چھوڑ دے۔ قناعت کا لفظ عمل کا الٹا نہیں ہے بلکہ وہ ہوس کا الٹا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پوری طرح ایک فعال زندگی گزارے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ زیادہ کی خواہش سے اپنے آپ کو بچائے۔ کیوں کہ زیادہ کی خواہش رکھنے والا آدمی کبھی اس دنیا میںمطمئن نہیں ہو سکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قناعت کا تعلق عمل سے نہیں ہے بلکہ نتیجۂ عمل سے ہے۔ عمل تو زندگی کا تقاضا ہے۔ ایک زندہ آدمی کبھی عمل سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مگر نتیجہ کا تعلق بہت سی خارجی چیزوں سے ہوتا ہے۔اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اپنی حد تک وہ عمل میں کوتاہی نہ کرے، اور نتیجہ کے معاملہ میں اس پر تیار رہے کہ جو بھی ملے گا وہ اس پر راضی ہو جائے گا۔
یہ دنیا کچھ اس طرح بنی ہے کہ یہاں عمل کرنا آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور نتیجہ کا نکلنا دوسرے بہت سے عوامل کے اختیار میں۔ اس لیے اس دنیا میں حقیقت پسندانہ رویہ صرف وہی ہے جس کو قناعت کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب نتیجہ میں قناعت ہے نہ کہ کوشش میں قناعت۔ نتیجہ کے معاملہ میں قانع بن جانا حقیقت پسندی ہے۔ جب کہ عمل کے معاملہ میں قانع بننا خودکشی کے ہم معنی ہے۔
اس معاملہ میں صحیح رویہ کا ایک سادہ معیار ہے۔ وہ یہ کہ ذہنی سکون کو بھنگ کیے بغیر کوشش کو جاری رکھا جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت اور اپنے مواقع کے اعتبار سے بھرپور عمل میں لگا رہے۔ جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے ، وہ صرف اس حد تک اس کا طالب بنے جب تک اس کا ذہنی سکون بھنگ نہ ہو۔ جب نتیجہ کی خواہش میں اس کا ذہنی سکون چھننے لگے تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ قناعت کے دائرہ سے نکل کر ہوس کے دائرہ میں داخل ہو گیا ہے۔ اور ہوس بہرحال قابل ترک ہے۔
قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے ضرورت ہوتا ہے اور غیر قانع آدمی کے لیے پیسہ برائے پیسہ۔ قانع آدمی اس وقت مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ اس کو بقدر ضرورت پیسہ مل جائے ۔ مگر غیر قانع آدمی کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کی پیسہ کی طلب کسی بھی حد پر ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہتی ہے۔
اس قناعت کا تعلق صرف پیسہ کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ ایک شخص سروس کر رہا ہے۔ ایک شخص لیڈری کے میدان میں ہے۔ ایک شخص حکومت کے عہدہ تک پہنچ گیا ہے۔ غرض آدمی جس شعبہ میں بھی ہو، ہر جگہ اس کے لیے ایک طریقہ ملے ہوئے پر قناعت کرنے کا ہے اور دوسرا طریقہ نہ ملے ہوئے کی طرف دوڑنے کا۔
قناعت کا طریقہ یہ ہے کہ حالات اس کو جس درجہ تک پہنچا دیں اس پر راضی ہو کر وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں لگ جائے۔ وہ ملی ہوئی حیثیت پر راضی رہے۔ اگر معمول کے مطابق اس کو مزید ترقی ملے تو اس کو وہ خوشی کے ساتھ قبول کر لے، اور اگر مزید ترقی کے مواقع نہ پیدا ہوں تو جہاں اس کو حالات نے پہنچایا ہے اس کو وہ دل کی رضامندی کے ساتھ قبول کر لے۔
پیاس آدمی کی ایک فطری ضرورت ہے۔ مگر ایک شخص وہ ہے جو صحت مند پیاسا ہو۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو پیاس کی بیماری (عُطاش) میں مبتلا ہو جائے۔ صحت مند پیاسا صرف بقدر ضرورت پانی کا طالب ہوتا ہے۔ بقدر ضرورت پانی پینے کے بعد وہ بالکل مطمئن ہو جاتا ہے۔ مگر جو شخص پیاس کی بیمار ی میں مبتلا ہو جائے، وہ ہر وقت پانی کا طالب بنا رہے گا۔ پانی کی کوئی بھی مقدار اس کو مطمئن کرنے والی نہیں۔
قانع آدمی اس دنیا میں صحت مند پیاسے کی مانند ہے، اور غیر قانع آدمی اس دنیا میں بیمار پیاسے کی مانند۔
اختلاف کے باوجود
جس زمانہ میں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی، قیصر روم (قسطنطنیہ)نے ارادہ کیا کہ وہ مسلم دنیا پر حملہ کر دے۔ اس کے ذہن میں آیا کہ اِس وقت مسلمان باہمی لڑائی میں مبتلا ہیں۔ اگر اس وقت میں نے حملہ کر دیا تو میں شام و مصر وغیرہ علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر سکتا ہوں۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً قیصر روم کے نام ایک خط روانہ کیا،اس میں لکھا ہوا تھا:اذا عقدت العزم علیٰ ان تحقق ارادتک فاننی اُقسم ان اتصالح مع صاحبی ثم لاشیّرن ضدک جیشاً سأکون ضمن اول کتیبۃ فیہ وسأ جعلن من القسطنطینیۃ شعلۃ نار (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، جلد11، صفحہ400)۔اگر تم نے یہ عزم کیا کہ تم اپنے ارادہ کو پورا کرو تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں علی سے صلح کر لوں گا۔ پھر میں تمہارے خلاف ایک لشکر روانہ کروں گا جس کے پہلے دستہ میں میں خود شامل ہوں گا اور پھر میں قسطنطنیہ کو آگ بنا دوں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے اس خط کے بعد قیصر روم نے اپنا حوصلہ کھو دیا۔ اس نے فوجوں کی تیاری روک دی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اب مسلمانوں سے جنگ چھیڑنا اپنی مزید بربادی کو دعوت دینا ہے۔
یہ زندہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ وسیع تر مفاد کا آ جائے تو وہ اپنے اختلاف کو ختم کر کے ایک ہو جاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ حد کے آ جانے کے بعد ان کا اختلاف باقی نہیں رہتا۔
زندہ انسان دوستی کے باوجود کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتا۔ وہ دشمنی کے باوجود کوئی چھوٹی حرکت نہیں کرتا۔ وہ انفرادی جھگڑے کے باوجود اجتماعی امور میں متحد ہو جاتا ہے۔ وہ شخصی کدورت کے باوجود اسلامی تعلق میں فرق نہیں آنے دیتا۔ زندہ انسان کسی سے نزاع پیش آنے کے باوجود اس کی خصوصیات کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ رنجش پیدا ہونے کے باوجود امانتوں کو ادا کرتا ہے۔ زندہ انسان کسی حال میں پست حرکت نہیں کرتا، وہ کسی حال میں اپنی انسانیت کو نہیں کھوتا۔ زندہ انسان دشمن ہو سکتا ہے مگر وہ کمینہ نہیں ہو سکتا۔ زندہ انسان شاکی ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں جس سے اس کو شکایت ہو اس کے خلاف وہ جھوٹا الزام لگانے لگے۔