قرآن میں ہے کہ کان اور آنکھ اور دل، ہرچیز کے بارے میں انسان سے پوچھ ہو گی (17:36)۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم میں جو شخص فتویٰ دینے میں زیادہ جری ہے وہ جہنّم کے اوپر زیادہ جری ہے (أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ) مسند الدارمی، حدیث نمبر 159۔
اس بنا پر صحابی کرام فتویٰ دینے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ عبداللہ ترازو میں اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں۔ (عَبْدُ اللَّهِ أثقَلُ فِي المِيْزَان من أُحدٍ) الادب المفرد، حدیث نمبر237۔اس کے باوجود ان کا یہ حال تھا کہ وہ کوفہ میں تھے۔ ان سے ایک معاملہ میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔ لوگ ان سے مہینہ بھر پوچھتے رہے۔ یہاں تک کہا کہ اگر آپ ہی فتویٰ نہ دیں تو ہم کس سے پوچھیں(مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْبَلَدِ، وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ؟)۔ اس کے بعد انھوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ اس کا جواب دیا (سنن النسائی، حدیث نمبر 3358)۔
حضرت عبداللہ بن عمر ہمیشہ فتویٰ دینے سے پرہیز کرتے تھے۔ لوگ جب زیادہ اصرار کرتے تو کہتے کہ ہماری پیٹھ کو جہنّم کے لیے سواری نہ بناؤ (لاتجعلو اظہورنا مطایا الٰی جہنّم) المعرفة والتاريخ للفسوي، جلد1، صفحہ493
ان روایات میں فتویٰ سے مراد کوئی محدود فتویٰ نہیں ہے۔ اس کا تعلق ان تمام امور سے ہے جو مسلمانوں کو پیش آتے ہیں اور جن میں وہ اپنے علماء اور اپنے رہنماؤں سے رائے پوچھتے ہیں۔ ایسے امور میں علماء اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ بولنے سے زیادہ سوچیں۔ وہ اس وقت تک کوئی بیان نہ دیں جب تک اس معاملہ میں مشورہ اور مطالعہ اور غور و فکر کی تمام شرطوں کو آخری حد تک پورا نہ کر چکے ہوں۔ ایسے امور میں نہ بولنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی غیر ذمہ دارانہ طور پر بولنے لگے۔
اجتماعی معاملات میں رائے دینا انتہائی نازک ذمہ داری ہے، کیوں کہ اگر رائے غلط ہو تو لوگوں کو نامعلوم مدت تک اس کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر وہ بولنا چاہتا ہے تو پہلے اس کی تمام شرطوں کو پورا کرے، اس کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔