Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

آگ کا ٹکڑا

Urdu · 3 min

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ ‌تَخْتَصِمُونَ ‌إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7169؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1713)۔ یعنی، حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے شخص کے مقابلہ میں زیادہ اچھے انداز میں اپنا دعویٰ پیش کرے اور میں اپنے سننے کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو میں نے جس شخص کو اس کے بھائی کا حق دیا، اس کو میں نے آگ کا ایک ٹکڑا دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک جائداد ہر حال میں اسی کی ہے جو اس کا واقعی حق دار ہے حتیٰ کہ اگر خود پیغمبر کسی وجہ سے غیر حق دار کے لیے اس کا فیصلہ کر دیں تب بھی وہ غیر حق دار کی نہیں ہو سکتی۔ پیغمبر کے فیصلہ کے باوجود وہ آخرت میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ثابت ہو گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں ناجائز قبضہ بہت عام ہے۔ موجودہ بگڑے ہوئے نظام نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ رشوت اور دھاندلی کے زور پر اپنی ناجائز خواہشات پوری کر سکیں۔ چنانچہ آج ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے غلط کارروائی کر کے کسی دوسرے شخص کی زمین یا عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث بہت زیادہ ڈرانے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب رسول خدا کے فیصلہ کے باوجود ایک جائداد کسی غیر حقدار کی نہیں ہوتی تو وہ ان لوگوں کی کیسے ہو جائے گی جو فرضی رجسٹری اور جھوٹے سرکاری کاغذات کی بنیاد پر دوسرے کی جائداد پر قبضہ کر بیٹھ گیے ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا میں آدمی غیر کی عمارت پر قابض ہو کر خوش ہوتا ہے۔ آخرت میں اس کا کیا حال ہو گا جب اس پوری عمارت کو آگ کی عمارت بنا کر اس کے اندر اسے بند کر دیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content