عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7169؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1713)۔ یعنی، حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے شخص کے مقابلہ میں زیادہ اچھے انداز میں اپنا دعویٰ پیش کرے اور میں اپنے سننے کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو میں نے جس شخص کو اس کے بھائی کا حق دیا، اس کو میں نے آگ کا ایک ٹکڑا دیا۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک جائداد ہر حال میں اسی کی ہے جو اس کا واقعی حق دار ہے حتیٰ کہ اگر خود پیغمبر کسی وجہ سے غیر حق دار کے لیے اس کا فیصلہ کر دیں تب بھی وہ غیر حق دار کی نہیں ہو سکتی۔ پیغمبر کے فیصلہ کے باوجود وہ آخرت میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ثابت ہو گی۔
موجودہ زمانہ میں ناجائز قبضہ بہت عام ہے۔ موجودہ بگڑے ہوئے نظام نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ رشوت اور دھاندلی کے زور پر اپنی ناجائز خواہشات پوری کر سکیں۔ چنانچہ آج ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے غلط کارروائی کر کے کسی دوسرے شخص کی زمین یا عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔
ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث بہت زیادہ ڈرانے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب رسول خدا کے فیصلہ کے باوجود ایک جائداد کسی غیر حقدار کی نہیں ہوتی تو وہ ان لوگوں کی کیسے ہو جائے گی جو فرضی رجسٹری اور جھوٹے سرکاری کاغذات کی بنیاد پر دوسرے کی جائداد پر قبضہ کر بیٹھ گیے ہوں۔
دنیا میں آدمی غیر کی عمارت پر قابض ہو کر خوش ہوتا ہے۔ آخرت میں اس کا کیا حال ہو گا جب اس پوری عمارت کو آگ کی عمارت بنا کر اس کے اندر اسے بند کر دیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔