عن ابی هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِ صحيح البخاري،حدیث نمبر 1359۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والا فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں یا اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں۔
اس کا مطلب صرف مذہبی معنوں میں یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا نہیں ہے۔ یہ تو بنانے کی آخری صورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر وہ بگاڑ شامل ہے جو والدین کے ذریعہ ان کی اولاد میں پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں عمومی الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا(مسند أحمد،حدیث نمبر 14805)۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہر پیدا ہونے والا فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بولنے لگے۔ پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو وہ شکرگزار یا ناشکر بن جاتا ہے۔
بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے۔ وہ کچھ عرصہ کے بعد بولتے ہیں۔ بولنے سے پہلے ان کا ربط ان کی پیدائشی فطرت سے ہوتا ہے، بولنے کے بعد ان کا ربط ان کے قریبی ماحول سے ہو جاتا ہے جو کچھ ملے اس پر اللہ کا شکر کرنا ہے یا اس کو کسی اور کا عطیہ سمجھنا ہے، اس کا ابتدائی سبق انھیں اپنے ماں باپ سے ملتا ہے۔ کسی کو چھوٹا دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا یا کسی کو بڑا دیکھ کر جل اٹھنا، یہ بھی پہلی بار ان کو اپنے والدین ہی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح والدین یا تو اپنے بچوں کو نیک عمل بناتے ہیں یا ان کو بدعمل بنا دیتے ہیں۔ بچہ کا گھر اس کا سب سے پہلا مدرسہ ہے اور بچہ کے والدین اس کے سب سے پہلے معلم۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔