ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں قصۃ غورث بن الحارث کے عنوان کے تحت ایک واقعہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غزوہ ذات الرقاع(4 ھ) سے واپس لوٹ رہے تھے۔ ایک جگہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا، رسول اللہؐ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔ اتنے میں دشمن قوم کا ایک آدمی غورث بن الحارث آیا۔ آپ کی تلوار درخت کی ایک شاخ سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا مَن یَمنعُک مِنّی یا محمّد (اے محمد، آپ کو مجھ سے کون بچائے گا) آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس نے کئی بار اپنا جملہ کہا۔ ہر بار آپ نے جواب دیا کہ اللہ۔ آپ کے اس جواب سے اس کے اوپر ہیبت طاری ہوئی اور اس نے تلوار زمین پر رکھ دی۔
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور اس سے وہی جملہ فرمایا کہ تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا۔ اس نے کہا :کن خیر آخذ (بہتر پکڑنے والے بنو) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملامت نہیں کی۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خود تو برے آخذ ثابت ہوئے اور مجھ کو اچھا آخذ بننے کے لیے کہہ رہے ہو۔ آپ نے اس کو معاف کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کو ملامت کرتے یا اس کو سزا دیتے تو اس کے اندر انتقال کا جذبہ بھڑکتا۔ مگر جب آپ نے اس کو سرزنش کیے بغیر چھوڑ دیا تو اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ وہ آپ کی شرافت اور آپ کے اخلاقی کمال کا مبلغ بن گیا۔ اس نے قبیلہ میں واپس جا کر یہ کہنا شروع کیا: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد4، صفحہ 270-271)۔میں اس شخص کے یہاں سے واپس آ رہا ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔
انتقام کا طریقہ صرف مسئلہ کو بڑھاتا ہے۔ جب کہ معافی کا طریقہ مسئلہ کو آخری حد تک ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ وہ معاف کرنے والے کی عظمت کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس کے بعد جانی دشمن بھی وفادار دوست بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔