حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت ہے جس کو صحیح بخاری میں تین باب کے تحت نقل کیا گیا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ طفیل بن عمرو الدوسی مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ کا پیغام سنا۔ ان پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ اسی وقت وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ میں واپس جاؤ اور لوگوں کو دین توحید کی طرف بلاؤ۔ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس گئے اور ان کو دعوت دینا شروع کیا۔
ان کی ساری کوششں کے باوجود صرف دو آدمی اسلام میں داخل ہوئے۔ ایک ان کے والد، اور دوسرے ابوہریرہ، جو اسی قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے۔ قبیلہ کی اکثریت ان کے خلاف ہو گئی اور طرح طرح سے ان کو ستانا شروع کیا۔ مدنی دور میں طفیل بن عمر الدوسی دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ دوس کا قبیلہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس نے توحید کی دعوت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لیے آپ ان کے خلاف بددعا کیجئے۔ (فَادْعُ اللهَ عَلَيْهِمْ) مسند أحمد،حدیث نمبر 7315۔
روایت میں آتا ہے کہ اس کو سن کر لوگوں نے گمان کیا کہ اب آپ قبیلہ کے خلاف بددعا کریں گے (فتح الباری 11/199 ) دوسری روایت میں ہے کہ لوگ کہنے لگے کہ اب قبیلہ دوس ہلاک ہو گیا (فتح الباری 6/166 ) مگر آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو آپ کی زبان سے یہ دعائیہ لفظ نکلا: اللهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ(مسند أحمد،حدیث نمبر 7315 )۔قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور ان کو مجھ سے ملا دے (7/704) جلد ہی بعد قبیلۂ دوس کا حاکم حبیب بن عمرو اور دوسرے تمام لوگ دعوت توحید سے متاثر ہوئے اور اسلام میں داخل ہو گئے۔
اس واقعہ میں ایک سوچ پیغمبر کی ہے اور دوسری سوچ عام آدمی کی۔ عام آدمی نے صرف ظاہر کو جانا۔ وہ قبیلہ کے صرف وقتی ردعمل کو دیکھ سکا۔ چنانچہ اس نے قبیلہ کو گمراہ سمجھ کر اس کو ہلاکت کا مستحق قرار دے دیا۔ مگر پیغمبر کی بصیرت نے انسانی افکار سے اوپر اٹھ کر خدائی توفیق کو دیکھا۔ اس کو نظر آیا کہ خدا اس کا منتظر ہے کہ دعا کرنے والے قبیلہ کے حق میں دعا کریں اور وہ اپنے بندوں کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دے۔ تجربہ نے بتایا کہ عام آدمی کا اندازہ غلط تھا اور پیغمبر کا اندازہ نہایت صحیح اور درست۔
یہ واقعہ پیغمبر خدا کی ایک سنت کو بتاتا ہے__ ناامیدی کے حالات میں بھی امید کے اوپر قائم رہنا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔