رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بارے میں صحابہ کے اقوال کثرت سے حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت ہے جو صحیح البخاری میں آئی ہے۔ امام بخاری نے اس کو اپنی کتاب میں معمولی فرق کے ساتھ چار مقام پر نقل کیا ہے۔ کتاب المناقب میں ، کتاب الادب میں اور کتاب الحدود میں دو باب کے تحت۔ کتاب الادب کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ(صحيح البخاري،حدیث نمبر 6126)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملہ کے درمیان کسی ایک معاملہ کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان معاملہ کو لے لیتے تھے جب تک وہ گناہ نہ ہو۔ پس اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔
یہ حدیث امام مسلم نے اپنی صحیح (حدیث نمبر 2327)میں اور امام طبرانی نے الاوسط (حدیث نمبر 2918)میں نقل کی ہے۔ وہاں اِلاّ اخذَ ایسرھما کی جگہ اِلاّ اختار ایسرھما کے الفا ظ ہیں ۔یعنی آپ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اسہل کو اختیار کرنے کا تھا نہ کہ اشدّ کو اختیار کرنے کا۔
طریق نبوت کے بارے میں حضرت عائشہؓ کا یہ بیان بے حد اہم ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کی نہایت جامع تشریح ہے۔ وہ اسلام کی مستقل پالیسی کو بتاتا ہے۔ یہ پالیسی ایک لفظ میں ہے___ ممکن سے آغاز۔
آسان اور مشکل کا مطلب سادہ طور پر محض آسان اور مشکل نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دو راستوں سے وہ راستہ اختیار کرنا جو کھلا ہوا ہو، اس مقام پر سر نہ ٹکرانا جہاں راستہ بند ہو۔ اور آگے بڑھنے کے لیے ٹکراؤ ضروری ہو گیا ہو۔
اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فوراً اپنے عمل کے لیے مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کی قوتیں تخریب کے بجائے تعمیر پر صرف ہونے لگتی ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔