قدیم مصر میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص قارون (korah) نام کا تھا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر اور رشتہ دار تھا۔ اس نے دنیاداری اور مصلحت پرستی کے ذریعہ بہت زیادہ دولت اکٹھا کر لی تھی۔ قرآن میں اس کے قصہ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ ایک بار وہ پوری زینت اور نمائش کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ قوم (بنی اسرائیل) کے کچھ لوگوں کو اس پر رشک آیا۔ انھوں نے کہا کہ کاش ہم کو بھی وہی ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بے شک وہ بڑی قسمت والا ہے (القصص ،28:79 )۔
اس کے بعد قرآن (28:80)میں ارشاد ہوا ہے کہ بنی اسرائیل میں جو علم والے لوگ تھے انھوں نے کہا کہ تمہارا برا ہو، اللہ کا انعام زیادہ بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں (وَلا يُلَقَّاها إِلَاّ الصَّابِرُونَ)۔
یہاں ا س قرآنی لفظ (وَلا يُلَقَّاها إِلَاّ الصَّابِرُونَ)سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں تفسیروں میں حسب ذیل اقوال آئے ہیں___اس قول کی توفیق انھیں ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ اعمال صالحہ کو وہی پاتے ہیں جو صبر کرنے والے ہیں، جنت کو وہی پاتے ہیں جو صبر کرنے والے ہیں
ای لَا يُؤْتَى هَذِهِ الْكَلِمَةُ إِلَّا الصَّابِرُونَ (تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ454)۔
أَي لَا يُؤْتَى الْأَعْمَالُ الصَّالِحَةُ إِلَّا الصَّابِرُونَ(تفسیر الخازن، جلد 3، صفحہ 371)
لَا يُؤْتَى الْجَنَّةَ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا الصَّابِرُونَ (تفسیر القرطبی، جلد13، صفحہ317)
ایمان اور عمل اور جنت کے ساتھ صبر کیوں اتنا زیادہ جڑا ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ اس بنا پر آدمی کو یہاں طرح طرح کی رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کبھی کوئی مشتعل کرنے والا اس کو مشتعل کر دیتا ہے۔ کبھی کسی کی طرف سے ایسا سلوک سامنے آتا ہے کہ اس کی اَنا پھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی کوئی مسئلہ اتنا بڑھتا ہے کہ وہ اس کے لیے عزت کا سوال بن جاتا ہے، ایسے تمام مواقع پر اپنے آپ کو راہ راست پر قائم رکھنے کے لیے صبر کی طاقت درکار ہوتی ہے۔ صبر نہیں تو ایمان نہیں۔ صبر نہیں تو اعمال صالحہ نہیں، صبر نہیں تو جنت بھی نہیں۔
صبر دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔