عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ صَمَتَ نَجَا (سنن الترمذي،حدیث نمبر2501)۔ یعنی، جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا: الصَّمْتُ حُكْمٌ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ (مسند الشهاب للقضاعي،حدیث نمبر 240)۔ یعنی، خاموشی حکمت ہے۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پر عمل کرتے ہوں۔
خاموشی بے عملی نہیں، خاموشی خود ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا صاحبِ دماغ ہونا ہے۔ اور خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی واقعتہً دماغ والا انسان ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چپ رہنا سوچنا ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو وہ سادہ طور پر صرف چپ نہیں ہوتا، وہ اس وقت غور و فکر میں مشغول ہوتا ہے۔ اور غور و فکر بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے۔ بولنا اگر اعضاء و جوارح کی حرکت کا نام ہے تو چپ رہنا دماغ کی حرکت کا نام۔ بولنا اگر آدھا عمل ہے تو چپ رہنا پورا عمل۔
چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بولے اور کیا نہ بولے۔ وہ دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو مخاطب بنا رہا ہے۔ وہ عاجلانہ اقدام کے بجائے سوچے سمجھے اقدام کا منصوبہ بنانے میں مشغول ہے۔
بولنا بے صبری ہے اور چپ رہنا صبر ہے۔ بولنا بے احتیاطی ہے اور چپ رہنا احتیاط ہے۔ بولنا غیر ذمہ دارانہ انداز ہے اور چپ رہنا ذمہ دارانہ انداز۔ بولنا محدودیت ہے۔ جو آدمی بول دے اس کی گویا حد آ گئی، مگر چپ رہنا لامحدودیت ہے۔ جو آدمی چپ ہو وہ اتھاہ آدمی ہے۔ وہ ایسا آدمی ہے جس کی ابھی حد نہیں آئی۔ بولنے والا آدمی فوراً بول پڑتا ہے، اور چپ رہنے والا آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ تمام لوگ اپنے الفاظ ختم کر چکے ہوں۔
اسلام آدمی کے اندر خود احتسابی اور غور فکر کا مزاج بناتا ہے۔ وہ ایسے افراد تیار کرتا ہے جو سوچنے والے ہوں، جو بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو محبوب رکھتے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔