قطع تعلق اور ترک کلام کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت ہے کہ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ صحيح البخاري،حدیث نمبر 6077۔کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ دونوں ملیں تو ایک اِدھر منہ پھیر لے اور دوسرا اُدھر منہ پھیر لے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔
ایک روایت میں ہے کہ ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنّت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندہ کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو سوا اس آدمی کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے بارے میں انتظار کرو، یہاں تک کہ وہ آپس میں اپنے تعلق کو درست کر لیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2565)
ایک روایت کے مطابق ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے بھائی سے ایک سال تک تعلق توڑے رہے تو وہ اس کا خون بہانے کے برابر ہے (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4915)۔ سنن ابو داؤد میں ایک اور روایت اس طرح ہے: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ (سنن أبي داود،حدیث نمبر 4914)۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔ پس جو شخص تین دن سے ز یادہ ترک تعلق کرے اور اسی حال میں مر جائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی سے غصہ ہو کر اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور ا س سے بولنا بند کر دیتا ہے۔ یہ برائی مردوں میں بھی ہے اور عورتوں میں بھی۔ مگر یہ سخت گناہ ہے ۔ وہ اتنا زیادہ سنگین ہے کہ آدمی اپنی اصلاح نہ کرے اور اسی حالت میں اس پر موت آ جائے تو نماز روزہ کے باوجود سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔