فتح مکہ کا واقعہ رمضان 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال 8 ھ میں غزوۂ حنین ہوا۔ مکہ کی طرف اقدام سے کچھ ہی پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کا سردار بنا دیا۔
یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار کے لوگ بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر جاں نثاری کر رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر اور جونیئر کو ترجیح دینے کا معاملہ تھا۔ تاہم اس شکایت کے باوجود تمام انصار رسول اللہؐ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہر حکم کی اطاعت کی۔
خاتمۂ جنگ کے بعد عرب رواج کے مطابق شعراء نے اس کے بارے میں اشعار کہے۔ انصار کے ایک شاعر عباس بن مرداس نے بھی اس موقع پر کچھ اشعار کہے۔ اس میں ایک طرف اس شکایت کا بھی تذکرہ تھا کہ آپ نے ہمارے اوپر خالد کو ترجیح دی اور ان کو قوم کے اوپر امیر بنا دیا (فاِن تکُ قد امَّرتَ فی القومِ خالداً)مگر اسی کے ساتھ شاعر نے کہا:
وقالَ نبیُّ المؤمنین تقدّمُوا فحُبَّ اِلینا اَن نکونَ اۡلمُقَدَّمَا
اور مسلمانوں کے نبی نے کہا کہ تم لوگ آگے بڑھو، تو ہمارے لیے یہ محبوب بن گیا کہ ہم آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والے ہوں (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 111۔
انصار کو اگرچہ ظاہر حالات کے مطابق شکایت تھی۔ مگر اس شکایت کو انھوں نے اپنے عمل پر اثرانداز ہونے نہیں دیا۔ شکایت کے باوجود وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ پوری طرح جڑے رہے۔ شکایت کے باوجود وہ اسلام کے محاذ پر متحدہ طاقت بن کر کھڑے ہو گئے۔
موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ باہم شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ صحیح یا غلط اسباب کے تحت بہرحال ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ رسول اور اصحاب رسول سے بھی۔ مگر مومن شکایتوں سے بلند ہوتا ہے، وہ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔ اسی لیے مومنین کی جماعت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شکایت اور اختلاف ان کے اتحاد کو درہم و برہم کر دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔