حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ (سنن ابی داؤد،حدیث نمبر 4811 )یعنی وہ آدمی جو انسان کا شکر نہ کرے وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں الٰہیات اور انسانیات دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اسلام میں الٰہی عبادت کا تعلق بھی انسانی اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کی نماز اس کے لیے وبال ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں دینے میں بھی بخیل ہو (الماعون ،107:4-7 ) ۔حدیث میں ہے کہ اس آدمی کا روزہ روزہ نہیں جو بظاہر روزہ رکھے مگر وہ قولی اور عملی جھوٹ کو نہ چھوڑے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1903) ۔قرآن میں ہے کہ مومن اس طرح صدقہ دیتا ہے کہ وہ لینے والے سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں چاہتا (الدھر ،76:9 ) حج کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ حج میں نہ بیہودہ گوئی کرنا چاہیے اور نہ بے حکمی اور نہ لڑائی جھگڑا (البقرہ ،2:197 )۔
عبادت اور اخلاق کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا فطرت کا عین تقاضا ہے۔ انسان کا ہر عمل اس کی نفسیات کے تحت ہوتا ہے۔ اور نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں ۔ آدمی کے اندر اگر صحیح معنوں میں عبادت کی نفسیات پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اخلاق کی نفسیات بھی ضرور اس کے اندر پیدا ہو جائے گی۔ کسی کے اندر اگر خدا پرستی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر انسان دوستی بھی لازماً موجود ہو گی۔
عبادت کوئی رسمی اور وقتی چیز نہیں۔ عبادت ایک گہرا روحانی عمل ہے۔ جس آدمی کے اندر عبادت کی روح آ جائے اس کی پوری شخصیت میں تواضع، احتیاط ، خیرخواہی اور فضولیات سے پرہیز کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ اور یہی کیفیات اخلاق کی اصل ہیں۔ یہ لطیف کیفیات جب سماجی تعلقات میں ظاہر ہوں تو اسی کا دوسرا نام انسانی اخلاق ہے۔
ایک عبادت گزار لازمی طور پر انسانی خدمت گار بھی ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق و عادات اور گفتار و کردار میں شرافت اور انسانیت کی روح بسی ہوئی ہوتی ہے۔
اگر ایک آدمی سچا خدا پرست ہو تو لازماً وہ سچا انسان دوست بھی ہو گا۔ یہ دونوں صفتیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔