قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ___ اور کسی قوم کی دشمنی کہ اس نے تم کو مسجد حرام سے روکا، تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (5:2)۔
6 ھ میں مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہوں اور عمرہ کی عبادت ادا کریں۔ اس موقع پر انھوں نے سخت قسم کی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کے اوپر زیادتیاں کیں۔ اس بنا پر مسلمانوں میں مشرکین کے خلاف غصہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی مشرک قبائل کے قافلوں کو روکیں اور ان کے خلاف انتقامی کارروائی کریں۔
مذکورہ آیت میں انھیں اس سے روک دیا گیا۔ اور حکم دیا گیا کہ دشمنی میں بے قابو نہ ہو اور ہر حال میں امن اور اعتدال کی روش پر قائم رہو۔
اس ذیل میں مزید یہ حکم دیا گیا کہ ’’نیکی اور تقویٰ پر آپس میں تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو‘‘ اس موقع پر اس حکم کا مطلب کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’اگر کوئی شخص بالفرض جوشِ انتقام میں زیادتی کر بیٹھے تو اس کے روکنے کی تدبیر یہ ہے کہ جماعت اسلام اس کے ظلم وعد و ان کی اعانت نہ کرے بلکہ سب مل کر نیکی اور پرہیز گاری کا مظاہرہ کریں۔ اور اشخاص کی زیادتیوں اور بے اعتدالیوں کو روکیں (صفحہ 137)
کسی گروہ میں ایک ایک آدمی سنجیدہ نہیں ہوتا ۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو جذباتی ہوتے ہیں اور وہ فریق مخالف کی اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھیں۔ ایسے موقع پر جماعت کے بقیہ، لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے جذباتی لوگوں کو روکیں ، وہ چپ رہنے کے بجائے بولیں، وہ ان کی حمایت کرنے کے بجائے ان کی مذمت کریں۔ اگر بقیہ لوگ ایسا نہ کریں گے تو قرآن کے الفاظ میں، وہ تعاون علی الاثم والعددان کے مجرم قرار پائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔