Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

قلبی عمل

Urdu · 3 min

غزوۂ تبوک میں کچھ لوگ عذر کی بنا پر شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کی بابت قرآن میں آیا ہے کہ___ ضعیفوں پر اور مریضوں پر اور محتاجوں پر کچھ گناہ نہیں جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں۔ نیکی والوں پر کوئی الزام نہیں۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور نہ ان پر کوئی گناہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو سواری کے لیے دوں، وہ واپس ہوئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس غم میں کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں جس کو وہ خرچ کریں۔ (التوبہ) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ یہ سات افراد تھے جو انصار کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "‌لَقَدْ ‌خَلَّفْتُمْ ‌بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا، وَلَا نِلْتُمْ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا، إِلَّا وَقَدْ شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ قَالُوا: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِقَالَ: نَعَمْ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ(تفسير ابن كثير،جلد4،صفحہ336)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم نے مدینہ میں ایسے لوگ چھوڑے ہیں کہ تم نے جو بھی خرچ کیا تم نے جو وادی بھی طے کی ، اور تم نے دشمن پر جو کامیابی بھی حاصل کی، ان سب کے اجر میں وہ شریک تھے صحابہ نے کہا کہ اگرچہ وہ مدینہ میں تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں، ان کو عذر نے روک دیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آدمی نہ کر کے بھی کرنے والوں کے اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔ بظاہر کچھ نہ پا کر بھی اس کا شمار ان لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے بہت کچھ پایا۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس کام میں ہم عملاً شریک نہ ہو سکے اس میں ہم جذبہ کے اعتبار سے شریک ہو جائیں۔ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھیں تو اس پر حسد کرنے کے بجائے اس کی بڑائی کا اعتراف کر لیں۔ کسی کے پاس ہم سے زیادہ مال ہو تو ہم دل سے یہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرے اور اس کو حقوق کی ادائیگی کی توفیق دے۔ کسی کو ’’مقرر‘‘ کے اسٹیج پر جگہ مل جائے اور ہم صرف ’’سامع‘‘ بنے ہوئے ہوں تو ہم اس کے لیے دعا کریں کہ خدایا تو اس کو توفیق دے کہ اس کی زبان سے جو کچھ نکلے حق نکلے اس کی زبان ناحق بولنے سے محفوظ رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content