Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

بے حساب اجر

Urdu · 3 min

قُلْ يَا عِبادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ واسِعَةٌ إِنَّما يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسابٍ (39:10)۔کہو کہ اے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لیے نیک صلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ کسی عمل پر بے حساب اجر دینے کا اعلان کیا جائے۔ قرآن میں اس قسم کا غیر معمولی اعلان صرف ایک عمل کے لیے کیا گیا ہے، اور وہ صبر کا عمل ہے۔

صبر کی اصل حبس ہے۔ یعنی روکنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے۔صبرتُ عن کذا (میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے رو دیا۔ یا صبرتُ عما احبّ (جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں اس سے میں نے اپنے آپ کو روکا)

عمل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے حد پر عمل کرنا۔ دوسرا ہے حد کے باہر جا کر عمل کرنا۔ ایک شخص آپ کے ساتھ حسن کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یہ معمول کا کردار ہے۔ اس میں صبر و برداشت کا مرحلہ پیش نہیں آتا۔ یا آپ نے ایسے دین کو اختیار کر رکھا ہے جس میں آپ کے سب معاملات درست رہیں تو یہ گویا ایک حد پر رہ کر دین دار بننا ہے۔

عمل کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں مطلوب دینی رویہ پر قائم رہے، خواہ صورت حال اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ یہ صابرانہ عمل ہے۔

یعنی دوسرا آدمی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ اس سے معتدل انداز میں کلام کریں۔ حق پر قائم رہنے میں بظاہر آپ کا معاملہ بگڑتا ہو تب بھی آپ حق اور انصاف سے نہ ہٹیں، بظاہر بے اصولی اختیار کرنے میں فائدہ نظر آتا ہو تب بھی آپ پوری طرح بااصول بنے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں بے حساب انعام دیا جائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے صبر کی قیمت پر دینی عمل کیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content