قرآن میں ہے کہ جب تم معاملہ کا فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو (فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ) 3:159۔ گویا عمل کا پختہ ارادہ انسان کو کرنا ہے اور نتیجہ کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔
الترمذی کی روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو ضرور وہ تم کو اسی طرح روزی دے گا جس طرح وہ چڑیا کو روزی دیتا ہے۔ چڑیا صبح کو خالی پیٹ نکلتی ہے اور شام کو بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے (لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا) سنن الترمذي،حدیث نمبر2344۔چڑیا اپنے بسیرے کے مقام سے نکل کر روزی کی تلاش میں جاتی ہے۔ یہ نکلنا اس کا اپنا فعل ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو رزق اسے ملتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ رزق کی تلاش چڑیا کا کام ہے اور تلاش کے نتیجہ کا تعلق خدا سے۔
الترمذی (کتاب القیامۃ) میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں، آپ نے فرمایا تم اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر توکل کرو (يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ، أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ؟ قَالَ: اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ) سنن الترمذي ،حدیث نمبر2517۔گویا اپنے جانور کو باندھنے کا کام خود آدمی کو انجام دینا ہے۔ باندھنے کے بعد جانور ٹھہرے گا یا رسی توڑ کر بھاگ جائے گا، اس معاملہ میں خدا کی کارسازی پر اعتماد کرنا ہے۔ اسی کو کہا گیا ہے کہ کوشش میری طرف سے اور اس کی تکمیل اللہ کی طرف سے (السعی منی والا تمام من اللّٰہ)
ہر کام میں ایک چیز ہوتی ہے محنت، اور دوسری چیز ہے نتیجۂ محنت ۔ توکل کا تعلق محنت سے نہیں ہے بلکہ نتیجۂ محنت سے ہے۔ مومن وہ ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنے کے لئے اٹھے تو پورے عزم کے ساتھ اس کو انجام دے۔ وہ اپنی پوری طاقت اس میں لگا دے۔ مگر نتیجہ کے معاملہ کو وہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔ آدمی اگر محنت کو خدا پر چھوڑے گا تو اس سے کاہلی اور بے عملی پیدا ہو گی۔ اور اگر وہ نتیجہ میں توکل کا طریقہ اختیار نہ کرے گا تو وہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔