قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر پر اللہ تعالٰے نے بے حساب اجر رکھا ہے (39:10) ۔صبر اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ ہے (46:35) ۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور واسع عطیہ نہیں دیا گیا (مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں صبر کے اوپر رکھ دی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف چند آیتوں کا حوالہ دیا جاتا ہے:
صبر پر جنت )الدھر،76:12 (
صبر پر فوزو فلاح )المومنون ،(23:111
صبر پر غلبہ (الانفال ،8:65)
صبر پر امامت (السجدہ ،32:24 )
صبر پر حفاظت (آل عمران ،3:120)
صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ہی وہ زمین ہے جس پر اعلیٰ انسانی اخلاقیات پرورش پاتی ہیں۔ صبر سے اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں، اور اخلاقی اوصاف تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہیں۔ صبر نہیں تو اخلاقیات نہیں، اخلاقیات نہیں تو کوئی کامیابی نہیں۔
انسان فطری طور پر بہتر اخلاق کو پسند کرتا ہے۔ مگر دو چیزیں بار بار آدمی کو اخلاق کے راستہ سے ہٹا دیتی ہیں۔ ایک داخلی خواہشات، اور دوسرے خارجی اشتعال۔ کبھی انسان کا اندرونی نفس اسے بہکاتا ہے، اور کبھی کوئی خارجی واقعہ اس کو مشتعل کر کے بے اخلاق بنا دیتا ہے۔ صبر ان دونوں کمزوریوں کے خلاف چیک ہے۔ صبر و تحمل کی صفت آدمی کو اخلاقی حد کے اندر رکھتی ہے، وہ اس کو اخلاق کی حد سے باہر جانے نہیں دیتی۔
صبر انسانیت کی تکمیل ہے۔ صبر کسی انسان کو مکمل انسان بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کی صفت ہو اس کے اندر تمام صفات ہوں گی، اور جس آدمی کے اندر صبر کی صفت نہ ہو وہ آخرکار تمام صفات کمال سے محروم ہو جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔