قرآن میں نکاح و طلاق کے احکام بیان کرتے ہوئے ایک بنیادی بات یہ بتائی گئی ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا (65:4)۔
مشہور مفسر ضحاک (م 105 ھ) نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یعنی جو شخص طلاق سنت میں اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے رجعت میں آسانی پیدا کر دے گا: أَيْ مَنْ يَتَّقِهِ فِي طَلَاقِ السُّنَّةِ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا فِي الرَّجْعَةِ (تفسير القرطبي،جلد18،صفحہ 165)۔
زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی فوری غصہ کے تحت مستقبل کو سوچے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ اب اگر وہ شریعت کے مقرر طریقہ سے انحراف کر کے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیدے تو اس کے لیے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو وہ غیر سنجیدہ فعل سے بچے گا۔ ایسا آدمی شریعت کے مقرر طریقہ پر پہلی بار صرف ایک طلاق دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگلے مہینہ تک جب اس کا غصہ اتر جائے گا اور وہ دور تک نتائج پر غور کر لے گا تو اس کو محسوس ہو گا کہ طلاق دے کر میں نے غلطی کی ہے۔ اس طرح اس کو موقع مل جائے گا کہ شریعت کے مطابق وہ دوبارہ رجوع کر لے۔
اس اصول کا تعلق پوری زندگی سے ہے ۔ زندگی کے معاملات اگر فطرت کے مقرر راستہ پر چلتے رہیں تو زندگی میں کبھی بگاڑ نہیں آئے گا۔ زندگی میں بگاڑ صرف اس وقت آتا ہے جب کہ فطرت کی شاہراہ سے انحراف کیا جائے۔
تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی فطرت کی شاہراہ سے نہیں ہٹے گا۔ تقویٰ آدمی کو محتاط اور سنجیدہ بناتا ہے۔ اور جو آدمی محتاط اور سنجیدہ ہو جائے وہ کبھی جذباتی طور پر یا منفی سوچ کے تحت کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ وہ ہر موقع پر اپنے کو تھام کر غور کرے گا۔ وہ جذبات کی راہ میں بہنے کے بجائے عقل کے فیصلہ کے تحت کام کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ غیر ضروری مشکلات سے بچ جائے گا اور یُسر والے راستہ کو پا کر اس پر چلتا رہے گا، یہاں تک کہ آخری منزل پر پہنچ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔