Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

غیر اثر پذیر

Urdu · 3 min

قرآن کی سورہ نمبر 48 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہ اصحاب رسول کی صفات ہیں۔ مگر وہ ایسی صفات ہیں جو آپ کے بعد بھی تبعاً تمام مسلمانوں سے مطلوب ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ منکروں کے اوپر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ)48:29۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے باہمی تعلقات میں تو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کا سلوک کریں لیکن جب غیر قوموں کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو وہ کڑے بن جائیں۔ ان کے معاملہ میں وہ متشددانہ سلوک اختیار کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں اشداء علی الکفار اسی معنی میں ہے جس کے لیے دوسری جگہ قرآن میں أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ (8:54)۔کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں ھو عزیز’‘ علیّ۔ یعنی وہ شخص ایسا مضبوط ہے کہ اس پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہے۔ شدید کا مفہوم بھی یہی ہے۔ ابن منظور کی لسان العرب(3/35-232 ) میں ہے کہ شدت کے اصل معنی صلابت کے ہیں۔ کوئی پتھریلی زمین جو پانی کا اثر قبول نہ کرے اس کو صلۡب کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ آیت میں شدید کا لفظ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے۔ ابن منظور نے ’’شدید‘‘ کی تشریح کے تحت جاہلی دور کے شاعر کا یہ شعر نقل کیا ہے کہ میں کسی کی سخت بات کے مقابلہ میں نرم نہیں پڑتا، خواہ اس کی بات لوہے سے زیادہ سخت کیوں نہ ہو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فإنِّي لَا ألِينُ ‌لِقَوْلِ ‌شُدَّى

وَلَو كانَتْ أشَدَّ من الحَدِيدِ

تهذيب اللغة،صفحہ 183۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ آیت میں اشداء کا لفظ داخلی معنی میں ہے نہ کہ خارجی معنی میں۔ یعنی اس میں اہل ایمان کی یہ داخلی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گہرے یقین کی بنا پر ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ خارجی ترغیبات کا اثر قبول نہ کر سکیں۔ غیر خدا پرست اشخاص یا غیر خدا پرستانہ تہذیب کا سیلاب بھی اگر ان کے اوپر سے گزر جائے تو وہ پتھر اور لوہے کی طرح اس کا اثر قبول کرنے سے محفوظ رہیں گے___ حق سے متاثر ہونے میں وہ انتہائی نرم ہوتے ہیں اور ناحق سے متاثر ہونے میں انتہائی سخت۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content