قرآن کی سورہ نمبر 48 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہ اصحاب رسول کی صفات ہیں۔ مگر وہ ایسی صفات ہیں جو آپ کے بعد بھی تبعاً تمام مسلمانوں سے مطلوب ہیں۔
ان صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ منکروں کے اوپر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ)48:29۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے باہمی تعلقات میں تو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کا سلوک کریں لیکن جب غیر قوموں کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو وہ کڑے بن جائیں۔ ان کے معاملہ میں وہ متشددانہ سلوک اختیار کریں۔
اس آیت میں اشداء علی الکفار اسی معنی میں ہے جس کے لیے دوسری جگہ قرآن میں أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ (8:54)۔کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں ھو عزیز’‘ علیّ۔ یعنی وہ شخص ایسا مضبوط ہے کہ اس پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہے۔ شدید کا مفہوم بھی یہی ہے۔ ابن منظور کی لسان العرب(3/35-232 ) میں ہے کہ شدت کے اصل معنی صلابت کے ہیں۔ کوئی پتھریلی زمین جو پانی کا اثر قبول نہ کرے اس کو صلۡب کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ آیت میں شدید کا لفظ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے۔ ابن منظور نے ’’شدید‘‘ کی تشریح کے تحت جاہلی دور کے شاعر کا یہ شعر نقل کیا ہے کہ میں کسی کی سخت بات کے مقابلہ میں نرم نہیں پڑتا، خواہ اس کی بات لوہے سے زیادہ سخت کیوں نہ ہو:
فإنِّي لَا ألِينُ لِقَوْلِ شُدَّى
وَلَو كانَتْ أشَدَّ من الحَدِيدِ
تهذيب اللغة،صفحہ 183۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ آیت میں اشداء کا لفظ داخلی معنی میں ہے نہ کہ خارجی معنی میں۔ یعنی اس میں اہل ایمان کی یہ داخلی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گہرے یقین کی بنا پر ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ خارجی ترغیبات کا اثر قبول نہ کر سکیں۔ غیر خدا پرست اشخاص یا غیر خدا پرستانہ تہذیب کا سیلاب بھی اگر ان کے اوپر سے گزر جائے تو وہ پتھر اور لوہے کی طرح اس کا اثر قبول کرنے سے محفوظ رہیں گے___ حق سے متاثر ہونے میں وہ انتہائی نرم ہوتے ہیں اور ناحق سے متاثر ہونے میں انتہائی سخت۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔