لماقدم حاتم الاصم الی الامام احمد قال لہ الامام اخبرنی کیف السلامۃ من الناس۔ فقال حاتم بثلاثۃ اشیاء تعطیھم من مالک ولا تاخذ من مالھم و تقضی لھم حقوقھم ولا تطالبھم بحقوقک و تصبر علیٰ اذا ھم ولا توذیھم (سیر اعلام النبلا للذہبی، جلد11، صفحہ487)۔ حاتم اصم جب امام احمد کے پاس آئے تو امام احمد نے ان سے کہاکہ مجھے بتائیے کہ لوگوں سے محفوظ کیسے رہا جائے۔ حاتم اصم نے کہا کہ تین چیزوں کے ذریعہ سے۔ ان کو اپنا مال دیں مگر خود ان کا مال نہ لیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کریں مگر اپنے حقوق ان سے نہ مانگیں۔ لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کریں اور خود ان کو ایذا نہ پہنچائیں۔
ان تینوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ آپ سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کے بعد آپ بھی ان سے پوری طرح محفوظ ہو جائیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس تین تدبیروں کے ذریعہ دلایا جا سکتا ہے۔
لوگوں کے پاس جو کچھ ہے، اس سے اپنے آپ کو مستغنی بنا لیں۔ مگر آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے آپ لوگوں کو حسب توفیق ان کا حصہ پہنچاتے رہیں۔ آپ لوگوں سے لینے والے نہ بنیں، اس کے بجائے آپ لوگوں کو دینے والے بن جائیں۔
لوگوں کا جو حق آپ کے اوپر ہو اس کی ادائیگی میں آپ کوئی کوتاہی نہ کریں۔ مگر دوسروں کے اوپر آپ کا جو حق آتا ہو، اس کو دوسروں سے وصول کرنے کی کبھی کوئی مہم نہ چلائیں۔
معاشرتی زندگی میں بار بار ایسا ہو گا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تکلیف پہنچے گی۔ اس طرح کے مواقع پر آپ یک طرفہ صبر و تحمل کی پالیسی کو اختیار کر لیں، آپ صرف اتنا ہی نہ کریں کہ دوسروں کو آپ ایذا نہ پہنچائیں ، بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا رویہ یہ بن جائے کہ دوسروں کی ایذاؤں پر آپ صبر کر لیں ، آپ لوگوں سے بدلہ لئے بغیر انھیں معاف کر دیں۔
دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد یقینی نسخہ ہے۔ اس کے سوا جو تدبیر اختیار کی جائے گی وہ امن و عافیت دینے والی نہیں بن سکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔