قدیم عرب میں کعب بن زُہیر ایک شاعر تھے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو کعب آپ کے مخالف ہو گئے۔ وہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشعار لکھتے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلاتے۔ ان اشعار میں نہایت برے انداز میں آپ کی ہجو اور تنقید ہوتی۔
جب مکہ فتح ہو گیا تو کعب بن زہیر کو اپنے لئے زمین تنگ دکھائی دینے لگی۔ ان کے بھائی بُجیر اسلام قبول کر چکے تھے۔ انھوں نے کعب سے کہا کہ مدینہ جاؤ اور اسلام قبول کر لو۔ اب اسی میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کعب بن مالک کے خط کا ایک فقریہ تھا کہ اگر تم اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے یہاں حاضر ہو جاؤ۔ کیوں کہ وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جو ان کے پاس تائب ہو کر آئے۔ (فَإِنْ كَانَتْ لَكَ فِي نَفْسِكَ حَاجَةٌ، فَطِرْ إلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِنَّهُ لَا يَقْتُلُ أَحَدًا جَاءَهُ تَائِبًا)۔
چنانچہ کعب بن زہیر مدینہ آئے۔ اگلے دن صبح سویرے وہ مسجد نبوی پہنچے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو انھوں نے آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہچانتے نہ تھے۔ کعب نے آپ سے کہا کہ میں کعب بن زہیر ہوں۔ میں تائب ہو کر اور مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ آپ سے امان مانگتا ہوں۔ کیا اس کو آپ میری طرف سے قبول کریں گے اور امان دے دیں گے۔
یہ سن کر مدینہ کا ایک مسلمان صف سے اٹھا اور چھٹ کر کعب تک پہنچا۔ اور کہا کہ اے خدا کے رسول اس دشمن خدا کو میرے حوالے کیجئے تاکہ میں تلوار سے اس کی گردن مار دوں۔
رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے کہا اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ وہ توبہ کر کے اور اپنی حرکت سے باز ہو کر آیا ہے۔ (دَعْهُ عَنْكَ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ تَائِبًا، نَازِعًا (عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ) سیرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ 503۔
یہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔ اس سے ناقدین اور مخالفین کے بارے میں اسلام کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی تخریبی ہو اور وہ کتنا ہی تنقیدیں کرتا رہا ہو۔ اگر وہ اپنے فعل کو چھوڑ دے اور تائب ہو کر امن کی درخواست کرے تو اس کو ضرور امن دیا جائے گا۔ ماضی کے تخریبی عمل کی بنیاد پر اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔ اس کی توبہ ہی اس کے لئے سزا کا بدل بن جائے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔