Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

اسلامی طریقہ

Urdu · 3 min

قرآن میں جن گھریلو مسائل کا ذکر ہے، ان میں سے ایک نشوز ہے۔ نشوز کا لفظی مطلب ہے سر اٹھانا۔ نشوز کا اظہار مرد ا ور عورت دونوں کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اس فعل کا ظہور مرد کے مقابلہ میں عورت کی طرف سے ہو تو ا س کا مطلب شوہر کی نافرمانی ہوتا ہے۔ اور اگر وہ عورت کے مقابلہ میں مرد کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کر رہا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نشوز کی صورت پیش آنے کے بعد عورت اور مرد کے باہمی تعلقات بگڑ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہو جائے تو کیا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ہدایت دی گئی کہ :سب سے پہلے دونوں آپس میں بات چیت کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کریں (النساء،4:128)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر آپس کی بات چیت سے تعلقات درست نہ ہوں تو دوسرے مرحلہ میں یہ کرنا چاہیے کہ دونوں خاندانوں سے ایک ایک شخص کو بطور حکم مقرر کیا جائے۔ دونوں خیرخواہی کے انداز میں کوشش کر کے معاملہ کو داخلی سطح پر طے کرنے کی کوشش کریں (النساء ،4:134 ) اگر یہ دوسری کوشش بھی ناکام ہو جائے تو تیسر مرحلہ میں معاملہ کو بیرونی عدالتی ادارہ (قضا) کے سپرد کر دیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تعلیم کا براہ راست تعلق شوہر اور بیوی کے نزاع سے ہے۔ مگر اس سے شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب دو انسان یا دو گروہ کے درمیان کوئی جھگڑے کی صورت پیدا ہو تو اس وقت جھگڑے کو حل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس طریق عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاملہ کو محدود دائرہ میں رکھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اولاً یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جن چند آدمیوں کے درمیان مسئلہ پیدا ہوا ہے، انھیں کے درمیان اس کو باقی رکھا جائے اور اس کے دائرہ کو آخری حد تک محدود رکھتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اگر بالفرض ساری تدبیروں کے باوجود یہ ابتدائی کوشش ناکام ہو جائے تب بھی معاملہ کو پھیلایا نہ جائے۔ اس کے بعد بھی صرف قریبی افراد کو شریک کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر قریبی اور متعلق افراد کی کوشش بھی اس کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہو تو اس وقت جائز ہے کہ اس کو عدالت یا اور کسی خارجی ادارہ کے سپرد کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content