مُوَطّأ الامام مالک (کتاب الجامع، ماجاء فی حسن الخلق) میں ایک روایت ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ حسن اخلاق کو مکمل کروں (بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ) موطأ مالك،حدیث نمبر1885۔
روایات میں آیا ہے کہ جنگ حنین کے بعد جب قبیلہ طیٔ کے گرفتار مرد و عورت آپ کے سامنے لائے گئے تو ان میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہا کہ اے محمدؐ، اگر آپ کا خیال ہو کہ آپ مجھ کو چھوڑ دیں اور عرب قبائل کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں کیوں کہ میں اپنی قوم کے سردار کی بیٹی ہوں۔ اور میرا باپ ضرورت مندوں کی حمایت کرتا تھا۔ اور مجبوروں کو رہائی دلاتا تھا۔ اور بھوکے کو سیر کرتا تھا اور لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ اور سلام کو پھیلاتا تھا اور اس نے کسی حاجت مند طالب کو کبھی نہیں لوٹایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اے خاتون، یہ بلاشبہ اہل ایمان کی صفتیں ہیں۔ اور اگر تمہارا باپ مسلم ہوتا تو ہم ضرور اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ حاتم طائی کی بیٹی کو چھوڑ دیا جائے کیوں کہ اس کا باپ اچھے اخلاق کو پسند کرتا تھا۔ ابوبردہ یہ سن کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ، کیا اللہ مکارم اخلاق کو پسند کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جنت میں صرف وہی شخص جائے گا جو اچھے اخلاق والا ہو (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بحسن الخلق)دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد 5، صفحہ341۔
جنت میں داخلہ کے لیے حسن اخلاق کی اہمیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسن اخلاق ہی کسی آدمی کو جنت میں رہائش کا مستحق بناتا ہے۔ جنت ایک انتہائی لطیف رہائش گاہ ہے وہاں ہرچیز اپنے آخری معیار پر ہو گی۔ اس لیے صرف وہی لوگ وہاں بسائے جانے کے لائق ٹھہریں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اعلیٰ نفسیات اور اعلیٰ انسانی کردار کا ثبوت دیا ہو۔ جنت موت کے بعد والی دنیا میں ہے، مگر اس کا انتخاب موت سے پہلے والی دنیا میں کیا جاتا ہے، اور حدیث کے مطابق، اس انتخاب کا معیار حسن اخلاق ہے۔
حسن اخلاق جنّت کا سرٹیفکیٹ ہے، بشرطیکہ آدمی مومن ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔