اسلام رحم اور مواسات کا دین
رحمت کلچر
اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ اسلام میں رحمت کا پہلو اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ وہ ان لوگوں کی پوری زندگی پر چھا جاتا ہے جو اسلام کے اصولوں کو پوری طرح اختیار کر لیں۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ کہے السلام علیکم و رحمتہ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو) ایک شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے الحمد للہ۔ اور سننے والا کہے یرحمک اللہ (اللہ تمہارے اوپر رحمت کرے) نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو تو کہے اللّٰھم افتح لی ابواب رحمتک (اے اللہ، مجھ پر رحمت کے دروازے کھول دے) اسی طرح نمازی لوگ جب نماز کو ختم کرتے ہیں تو وہ اپنے دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں السلام علیکم و رحمتہ اللہ (تم لوگوں کے اوپر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)
اس طرح ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں سلامتی اور رحمت کے کلمات لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں۔ رحمت کے انداز میں سوچنا اور رحمت کے انداز میں بولنا یہ اہل ایمان کی امتیازی صفت بن جاتی ہے۔ ان کی پوری زندگی رحمت والفت کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے ایسے کلمات منقول ہیں جن کا آغاز اس طرح کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً (سنن الترمذي،حدیث نمبر430) رَحِمَ اللهُ رَجُلًا (صحيح البخاري،حدیث نمبر 2076) رَحِمَكَ اللَّهُ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 1057) رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً (سنن أبي داود،حدیث نمبر 1308) يَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 4758) يَرْحَمُكَ اللهُ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 6226)، وغیرہ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج بنانا چاہتا ہے۔ وہ دراصل رحمت و محبت کا مزاج ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہر موقع پر ایک آدمی کے اندر دوسرے آدمی کے لیے رحمت کے جذبات ابھریں۔ ہر موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی کو رحمت و الفت کا تحفہ پیش کرے۔ حتی کہ اظہار اختلاف کا موقع ہو تب بھی مومن کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں کہ خدا تمہارے اوپر رحم کرے، تم نے ایسا کیوں کر کہا۔
خدا رحیم ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی رحیم بن کر دنیا میں رہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔