ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ کہ مکی دور میں قبیلہ دوس کے ایک شخص طفیل بن عَمر والدوسی آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ سے قرآن کو سنا اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی اجازت سے وہ اپنے قبیلہ میں واپس گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا مگر قبیلہ کے لوگوں نے انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ طفیل بن عمرو دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ قبیلہ دوس کے لوگ حق کے معاملہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف بددعا کیجئے ۔ آپ نے اس کے برعکس ہاتھ اٹھایا اور ان کے حق میں دعا کرنا شروع کیا اے اللہ، تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے، اے اللہ تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ پھر آپ نے طفیل بن عمرو سے کہا کہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور ا س کو دوبارہ دعوت دو۔ اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (سیرت ابن ہشام، جلد 1 ،صفحہ 382-384 )
یہ دعا اور یہ نصیحت کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے طفیل بن عمرو کو منفی نفسیات سے نکال کر مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا۔ جن لوگوں کے بارے میں ان کے اندر بیزاری کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا ان کے لیے ان کے اندر خیرخواہی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جس معاملہ میں طفیل بن عمرو صرف حال کو دیکھ رہے تھے اس معاملہ میں آپ نے ان کے اندر مستقبل کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دی۔
دعا ایک اعتبار سے خدا سے مانگنا ہے۔ اور دسرے اعتبار سے وہ اپنی نفسیات کی صالح تربیت ہے۔ وہ اپنے اندر ربانی طاقت کو بیدار کرنا ہے۔ طفیل بن عمرو جب اس نئی نفسیات کے ساتھ دوبارہ اپنے قبیلہ میں گئے تو وہ گویا ایک نئے انسان بن چکے تھے۔ اب وہ اس قابل تھے کہ زیاہ موثر انداز میں حق کی دعوت ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس کے بعد نتیجہ ظاہر تھا۔ پورے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔
جس سوسائٹی میں لوگ ایک دوسرے کے اتنے خیرخواہ بن جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے خدا سے دعا کرنے لگیں وہاں اس کا لازمی فائدہ یہ ہو گا کہ پوری سوسائٹی میں مثبت نفسیات کو فروغ حاصل ہو گا، اور بلاشبہہ سوسائٹی بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جو چیز مطلوب ہے وہ یہی مثبت نفسیات ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔