قرآن میں ہے: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آتی ہیں2:249))۔ یہ موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں عزّت اور برتری صرف انھیں لوگوں کا مقدر نہیں ہے جو تعداد اور وسائل میں زیادہ ہوں۔ یہاں کم تعداد اور کم وسائل والا گروہ بھی عزت اور سربلندی حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اذن اللہ کی پیروی کرے۔
یہ اذن اللہ یا خدائی قانون کیا ہے، وہ الرعد (13:17) کے مطابق یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہراؤ اور استحکام حاصل کرتی ہے (وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ) ۔ یہی بات حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (السیدُ العُلیا خیر من الید السفلیٰ) یعنی جو ہاتھ دوسروں کو دیتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرں سے لینے والا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ سماج میں ہمیشہ دو قسم کے گروہ ہوتے ہیں۔ ایک دینے والا گروہ (Giver group) اور دوسرا لینے والا گروہ (Taker group) زندگی کا یہ ابدی قانون ہے کہ جو گروہ لینے والا ہو اُس کو اِس دنیا میں پستی اور مغلوبیت کی سطح پر جگہ ملے۔ اور جو گروہ دینے والا گروہ بنے، اس کو دوسروں کے اوپر عزّت اور برتری کا مقام حاصل ہو۔
موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے احیاء ملّت کے نام سے جو تحریکیں اٹھائیں، وہ زندگی کے اس شعور سے یکسر خالی تھیں۔ یہ لوگ اس بات کو نہ جان سکے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انھیں تخلیقی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اس کے بجائے انھوں نے مسلمانوں کو علٰحدگی پسند گروہ (Separatist group) کے طور پر اٹھانے کی کوشش کی۔ 1947ء سے پہلے اس علٰحدگی پسندی کا اظہار جغرافیائی تقسیم کی شکل میں ہوا، اور 1947ء کے بعد ملّی تشخص کی حفاظت کی صورت میں ہو رہا ہے۔
مسلمانوں کی ترقی کا راز علٰحدگی پسندی میں نہیں بلکہ آفاقیت پسندی میں ہے۔ انھیں تخلیقی گروہ بننا ہے نہ کہ جامد گروہ۔ انھیں اپنا امتیاز خارجی مظاہر میں نہیں بلکہ معنوی حقیقتوں میں قائم کرنا ہے۔ وہ نفع بخشی کی زمین پر کھڑے ہو سکتے ہیں نہ کہ حقوق طلبی کی زمین پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔