Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

فرشتہ کی مدد

Urdu · 9 min

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ ‌يَشْتُمُنِي ‌وَأَنْتَ ‌جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ (مسند احمد، حدیث نمبر 9624)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو برا کہا (حضرت ابوبکر چپ رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ پھر جب اس شخص نے بہت زیادہ کہا تو حضرت ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر چل کر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول وہ آدمی مجھ کو برا کہہ رہا تھا اور آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے (اور خوش تھے) لیکن جب میں نے اس کی بعض بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ (جب تم چپ تھے) تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود اس کی بات کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔

hadithQuotes a hadith

ایک آدمی آپ کو برا کہے۔ اس کے جواب میں آپ بھی اس کو برا کہیں تو بات بڑھتی ہے۔ جس آدمی نے پہلے صرف ایک سخت لفظ کہا تھا۔ اس کے بعد وہ سبّ و شتم پر اتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں پتھر اٹھا لیتا ہے۔ آپ کا جواب نہ دینا اس کو ابتدائی حد پر روک دیتا ہے، اور آپ کا جواب دینا اس کو اس کی آخری حد پر پہنچا دیتا ہے۔

اس کے بجائے اگر ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کو برا کہے یا گالی دے مگر آپ خاموش ہو جائیں۔ آپ اشتعال انگیز کلام کے باوجود مشتعل نہ ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا لہجہ آہستہ آہستہ دھیما ہو رہا ہے۔ اس کے غبارے کی ہوا نکلنا شروع ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ چپ ہو جائے گا۔ آپ کا بولنا دوسرے کو مزید بولنے پر آمادہ کرتا ہے، اور اگر آپ چپ ہو جائیں تو آپ کا چپ ہونا آخر کار دوسرے شخص کو بھی چپ ہونے پر مجبور کر دے گا۔

دونوں صورتوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب برا کرنے والے کا جواب برائی سے دیا جائے تو اس کے اندر ردعمل کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اب شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کی انا کو جگائے۔ وہ اس کے غصہ کو بڑھا کر اس کو آخری درجہ تک پہنچا دے۔ وہ برائی جو اس کے اندر سوئی ہوئی تھی، وہ پوری طرح جاگ کر آپ کے بالمقابل کھڑی ہو جاتی ہے

اس کے برعکس جب برا کرنے والے کے ساتھ اعراض کا معاملہ کیا جائے تو اس کے اندر خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ اب فرشتہ کو موقع ملتا ہے کہ وہ آدمی کی فطرت کو بیدار کرے۔ وہ اس کے ضمیر کو متحرک کرنے کی کوشش کرے۔ وہ اس کے اندر شرمندگی کا جذبہ پیدا کرے۔ وہ اس کو اپنی اصلاح پر ابھارے۔

پہلی صورت میں آدمی شیطان کے زیر اثر چلا جاتا ہے اور دوسری صورت میں فرشتہ کے زیر اثر۔ ایک واقعہ کی صورت میں دوسرے کو ملزم ٹھہرا کر اس سے انتقام لینے کے جذبات بھڑکتے ہیں اور دوسرے واقعہ کی صورت میں اپنے کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی اصلاح کرنے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

ہر آدمی کے سینہ میں دو طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک طاقت آپ کی موافق ہے جس کی نمائندہ آدمی کا ضمیر ہے۔ دوسری طاقت آپ کی مخالف ہے۔ اس کی نمائندہ آدمی کی انا ہے۔ اب یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس طاقت کو جگاتے ہیں۔ آپ اپنے قول و عمل سے جس طاقت کو جگائیں گے وہی آپ کے حصہ میں آئے گی۔

ایک طاقت کو جگانے کی صورت میں فریق ثانی آپ کا دشمن بن جائے گا۔ اور اگر آپ نے دوسری طاقت کو جگایا تو خود فریق ثانی کے اندر ایک ایسا عنصر نکل آئے گا جو آپ کی طرف سے عمل کر کے اس کو آپ کے مقابلہ میں مغلوب و مفتوح بنا دے ۔

مذکورہ واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی پر غصہ نہیں ہوئے جو بدکلامی کر رہا تھا۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق کی زبان سے برا کلمہ نکلا تو آپ غصہ ہو گئے۔ گدھے کے لیے شریعت میں اعراض کا اصول ہے اور انسان کے لیے امر بالمعروف کا اصول۔

عام طور پر لوگ جواب دینے کو دفاع سمجھتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ دفاع کر رہے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ بڑا دفاع یہ ہے کہ زیادتی کے جواب میں آدمی خاموش ہو جائے۔ مقابلہ کے بجائے وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔

خاموشی بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ آدمی جب جوابی ٹکراؤ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ زیادتی کے بعد چپ ہو جاتا ہے تو وہ پورے نظام فطرت کو اپنی طرف سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔ ذاتی دفاع ایک کمزور دفاع ہے۔ اور فطرت کا دفاع زیادہ طاقت ور دفاع۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں یہ نظام قائم کیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی گندگی پیدا ہوتی ہے تو فوراً بے شمار بیکٹیریا وہاں جمع ہو کر اس مادہ کو (decompose) کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ گندگی کا خاتمہ کر سکیں۔ اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قائم ہوا نظام ہے کہ جب کوئی انسان کسی کے اوپر زیادتی کرے تو پورا نظام فطرت اس کی اصلاح کے لیے حرکت میں آ جائے۔

اس اعتبار سے خاموشی گویا ایک قسم کا انتظار ہے۔ جب آدمی زیادتی پر خاموش ہو جاتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو حالتِ انتظار کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ عالمی ضمیر کو کام کرنے کا موقع دے کر اس کے نتیجہ کا منتظر ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اقدام کر کے فطرت کے عمل میں بگاڑ نہ پیدا کرے۔ بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کر کے فطرت میں ہونے والے عمل کے ساتھ تعاون کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content